خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 368

خطبات طاہر جلد۵ 368 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء آیات کے ساتھ یعنی مضمون کو پھیر پھیر کے بیان فرماتا ہے اور ان تمام آیات کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ اپنی طاقت کے گھمنڈ پر مخالف کرتے ہیں۔اس مضمون کو اگر پاکستان میں آج گزرنے والے حالات کے اوپر چسپاں کر کے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مضمون کسی خاص وقت یا کسی خاص زمانے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ایک ایسا مضمون ہے جو وقت سے آزاد ہے۔ماضی سے بھی تعلق رکھتا ہے اور مستقبل سے بھی تعلق رکھتا ہے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے بچے اور جھوٹے کے درمیان تفریق کرنے والا مضمون ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں بھی آپ کو طاقت کے گھمنڈ پر جہاد کا تصور ملے گا وہ تصور جھوٹا ہوگا کیونکہ سارے قرآن کریم میں کہیں ایک جگہ بھی ایسا واقعہ بیان نہیں ہوا کہ وہ لوگ جو خدا کے انبیاء کے دشمن ہیں وہ کمزور ہونے کے باوجود ان کو جھوٹا سمجھ کر ان کے خلاف علم جہاد بلند کرتے ہیں۔وہ نا تو ان اور ضعیف ہونے کے باوجود جس چیز کو سچا سمجھتے ہیں اس کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں بلکہ بلا استثناء ہر جگہ جہاں بھی انبیاء کی مخالفت کا ذکر ملتا ہے وہاں مخالفت کرنے والوں کی قوت کا بھی ذکر ملتا ہے۔ان کی طاقت کا، ان کے گھمنڈ کا، ان کی قوم کی عظمت کا ، ان کی عددی اکثریت کا ، ان کے اموال کا ، ان کے مویشیوں کا ، ان کے جنگ وجدال کے سامانوں کا ، ان کے لاؤ لشکر کا مختلف انبیاء کے ذکر میں یہ سارے امور آپ کو نظر آئیں گے لیکن کسی ایک جگہ بھی یہ دکھائی نہیں دے گا کہ وہ دشمن ایسا دشمن تھا جو کمزور ہونے کے باوجود محض اس وجہ سے کہ انبیاء کو جھوٹا سمجھتا تھا ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔اس کے برعکس جہاد کے مضمون کے ساتھ آپ کو طاقت کا مضمون کہیں نظر نہیں آئے گا۔اول سے آخر تک جہاں جہاں قرآن کریم نے جہاد کا ذکر فرمایا ہے وہاں ساتھ کمزوری کا بھی ذکر فرمایا۔یعنی جہاد کرتے ہیں کمزور جانتے ہوئے اپنے آپ کو ، اپنے آپ کو کمزور دیکھتے ہوئے ایک طاقتور دشمن کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً (البقره: ۲۵۰) یہ مضمون مختلف شکلوں میں آپ کو سارے قرآن کریم میں دکھائی دے گا۔جس کا گہرا اٹوٹ تعلق جہاد کے مضمون کے ساتھ ہے۔پاکستان میں جو احمدیوں پر گزر رہی ہے اس کی خالص اور حقیقی اصل وجہ ہی یہی ہے کہ کچھ لوگ اپنے آپ کو طاقتور سمجھ رہے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اتنی بڑی قوت رکھتے ہیں ، عددی اکثریت