خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 367

خطبات طاہر جلد۵ 367 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء اللہ اور اس کے رسول کا غلبہ یقینی ہے عبادت ہی اصل جہاد ہے ( خطبه جمعه فرموده ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت کی : أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِنْ قَبْلِهِمْ كَانُوْا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةَ وَأَثَارًا فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللهِ مِنْ وَّاقٍ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَتْ تَأْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَكَفَرُوْا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ اور پھر فرمایا: (المومن : ۲۲_۲۳) قرآن کریم کی یہ جو دو آیات میں نے تلاوت کی ہیں ان میں قرآن کریم یہ مضمون بیان فرما رہا ہے کہ آغاز ہی سے انبیاء کی مخالفت کرنے والوں کا گھمنڈ اپنی طاقت پر رہا ہے اور سب سے بڑی دلیل ان کی صداقت کی ان کی طاقت ہوا کرتی ہے اور وہ ہمیشہ کمزوروں پر ہاتھ ڈالتے ہیں اور کمزوروں کے خلاف جہاد کی آواز بلند کرتے ہیں۔اس مضمون کی متعدد اور آیات قرآن کریم میں مختلف جگہ پھیلی پڑی ہیں۔بڑی کثرت کے ساتھ مختلف رنگ میں اس مضمون کو اللہ تعالیٰ تصریف