خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 352
خطبات طاہر جلد ۵ 352 خطبه جمعه ۶ ارمئی ۱۹۸۶ء اس حد تک تو اس کی فہم پہنچ گئی لیکن ایک کافر کی فہم و بصیرت کی ایک حد ہوتی ہے اس سے آگے وہ نہ جاسکی۔کہنا اس کو یہ چاہئے تھا کہ میں ایسے زندہ دیکھ کر آیا ہے جن کو ابدی زندگی کا پیغام مل چکا ہے، جن کو قیامت تک کوئی مار نہیں سکتا۔وہ تمہاری طرح کے زندہ نہیں ہیں جن کے لئے دنیا کے معمولی خطرات بھی بعض دفعہ جان لیوا ثابت ہو جاتے ہیں وہ تو ایسی ابدی زندگی پانے والے لوگ ہیں جن کو کوئی موت کسی حالت میں بھی نہ ڈرا سکتی ہے نہ مار سکتی ہے۔پس یہی کیفیت آج پاکستان کے احمدی بھائیوں کی ہے اللہ کے فضل سے ان میں سے ہر ایک شیر نر کی طرح بہادر ہے اور خدا کی راہ میں ایک ذرہ بھی کسی خوف سے نہ ہچکچاتا ہے اور نہ ڈر محسوس کرتا ہے۔یہ بات تو بڑی کھلی کھلی سمجھ میں آجاتی ہے کہ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ ان پر کوئی خوف نہیں ہے۔وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ سے کیا مراد ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ شہداء یا وہ دیکھ اٹھانے والے جن کو خدا تعالیٰ یہ سعادت بخشتا ہے ان کے پسماندگان یا باقی مومنوں کی جماعت ان کے لئے دکھ محسوس کرتی ہے اس میں کوئی بھی شک نہیں۔اس لئے لَا يَحْزَنُونَ کا کیا معنی ہوا، یہ دکھ تو خود حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے بھی محسوس فرمایا۔چنانچہ بئر معونہ کے وقت جب ستر قراء صلى الله کوشہید کیا گیا تو صحابہ بیان کرتے ہیں آنحضور ﷺ کو اتنا صدمہ پہنچا کہ زندگی میں نہ کبھی پہلے ایسا صدمہ دیکھنا نصیب ہوا نہ اس کے بعد کبھی ایسا صدمہ دیکھنا نصیب ہوا۔تمہیں دن تک بڑی گریہ وزاری کے ساتھ صبح کی نمازوں کے بعد ان کے لئے دعا اور دشمنوں کے متعلق بددعائیں کرتے رہے ( بخاری کتاب المغازی حدیث نمبر : ۳۷۸۷) تووَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ سے پھر کیا مطلب لیا جائے جو واقعات اور حالات کے مطابق درست ٹھہرے۔اس کے دو پہلو ہیں جن سے یہ بظاہر تضاد دور ہو جاتا ہے یعنی اس عظیم اعلان کا اور واقعاتی دنیا کا تضاد۔اور بھی کچھ پہلو تفصیلی ایسے ہیں جن پر غور کرنے سے اس کے مضمون کے اندر زیادہ گہرائی نظر آتی ہے۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ جو بیان ہے یہ قربانی کرنے والوں کے متعلق ہے، پیچھے رہنے والوں کے متعلق نہیں۔جو قربانی میں سے گزر رہے ہیں ، جن کو قربانی کی سعادت ملتی ہے ان کو کوئی خوف نہیں ہوتا اور ان کو کوئی غم نہیں ہوتا۔وہ قربانی دیتے ہیں اور اس کے باوجود قربانی کا شوق پہلے سے بڑھ جاتا ہے۔جس شخص کو نقصان کا زیاں کا احساس ہوا ہو وہ دوبارہ قربانی کرنے کی