خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 351
خطبات طاہر جلد۵ 351 خطبہ جمعہ ۶ ارمئی ۱۹۸۶ء قسم کا کوئی غم نہ کریں۔بعض احمدی دوستوں نے لکھا ہے کہ اتنے کمزور ایمان والے لوگ جو معمولی باتوں سے بھی ڈر جایا کرتے تھے ان کے دلوں کی یہ کیفیت ہے کہ روح وجد میں آجاتی ہے دیکھ کر۔دندناتے ہوئے خطرے کی گلیوں میں پھرتے ہیں اور ایک ذرہ بھی ان کو پروا نہیں۔وہ سارے فیصلے کر چکے ہیں اور یہ عزم بٹھا چکے ہیں دلوں میں کہ خدا کی راہ میں جو کچھ قربان ہوسکتا ہے وہ ہم سب قربان کر دیں گے۔پس جب ایک دفعہ کوئی قوم قربانی کے اس معیار پر پوری اتر چکی ہو کہ ہر قسم کے خطرات کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی جرات رکھتی ہو اور پہلے سے ہی دل میں تہیہ کر چکی ہو کہ جو کچھ بھی اس راہ میں گزرے گی ہم اس کو اپنے سر پر لیں گے اور ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ان کے مرد کیا اور ان کی عورتیں کیا ، ان کے بوڑھے کیا اور ان کے بچے کیا ، وہ سب اس عہد میں ایک جان اور یک قالب ہو چکے ہوں۔ان کو موت یا کوئی اور خوف کیسے ڈرا سکتے ہیں۔ان کی کیفیت تو بدر کے ان صحابہ کی سی کیفیت ہو جاتی ہے جن کے متعلق اس دشمن نے جو یہ اندازہ لگانے کے لئے بھیجا گیا تھا کہ دیکھو مسلمانوں کی فوج کی کیا حالت ہے اور ان کی طاقت کا کیا عالم ہے۔اس نے واپس آکر ان کے متعلق یہ گواہی دی اور یہ ایسی عظیم الشان گواہی ہے کہ اگر چہ وہ کافر تھا لیکن اس کے منہ سے بات ایسی نکلی جو سنہری حروف میں لکھنے کے لائق ٹھہری۔اس نے آکر اپنے بھیجنے والوں کو یہ بتایا کہ دیکھو میں وہاں تین سو تیرہ یعنی تین سو کے لگ بھگ آدمی دیکھ کر آیا ہوں بوڑھے بھی ہیں کمزور بھی ہیں، نہتے بھی ہیں، کسی کے پاس لکڑی کی تلوار ہے، کوئی لنگڑا ہے اور بہت ہی بظاہر کمزوری کی حالت ہے لیکن میں تمہیں ایک بات بتا دیتا ہوں کہ غالب وہ آئیں گے اور شکست تم کھاؤ گے۔اس پر مکہ کے سرداروں نے تعجب سے اُس سے پوچھا کہ یہ کیا جاہلانہ باتیں کر رہے ہو، ایک ہزار عرب کے چنیدہ لڑنے والوں کے مقابل پر جو ہر قسم کے اسلحہ سے لیس ہیں۔تم خود بتاتے ہو کہ نہایت ہی کمزور تین سو کے لگ بھک آدمی ہیں ، بوڑھے بھی، بچے بھی، کمزور بھی، بہار بھی لنگڑے بھی اور پوری طرح ہتھیار بھی ان کو میسر نہیں اور پھر کہہ رہے ہو کہ جیتیں گے وہی۔تو اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں وہاں تین سو تیرہ زندہ نہیں بلکہ تین سو تیرہ موتیں گن کر آیا ہوں، ان میں سے ہر ایک کی پیشانی پر یہ عہد لکھا ہوا ہے کہ ہم اس راہ میں مر جائیں گے اور ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔تو زندوں کو تو کوئی مار بھی سکتا ہے مردوں کو کوئی مار نہیں سکتا۔(الطبقات الکبری جلد ۲ صفحہ ۶ باب غزوۃ البدر )