خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 353

خطبات طاہر جلد۵ 353 خطبه جمعه ۶ ارمئی ۱۹۸۶ء خواہش نہیں کر سکتا۔اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان کے پسماندگان پر اللہ تعالیٰ اپنے فضل نازل فرماتا ہے اور ان کے غم کو عارضی کر کے دکھا دیتا ہے اور پھر ایسے فضل ان پر نازل فرما تا چلا جاتا ہے کہ وہ غم اس کے مقابل پر کچھ حیثیت بھی نہیں رکھتے یعنی چھوٹے ہو کر نظر آنے لگ جاتے ہیں۔مثلاً خدا کی راہ میں ایک نقصان ہوا اس کے مقابل پر پھر اس کثرت سے فضل نازل ہونے شروع ہوئے کہ وہ نقصان ان فضلوں کے سامنے کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔چنانچہ اس مضمون کو اجتماعی حیثیت سے قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا کہ اگر ایک تم میں ارتداد اختیار کرے گا تو اس کی جگہ کثرت سے خدا دوسری جماعت عطا فر مادے گا۔ایک جان کو شہادت نصیب ہوگی تو اس کثرت سے بڑھائے گا کہ شہادت کی برکت سے جو مومنوں کی جماعت کو وہ ایک کا نقصان نہ صرف یہ کہ پورا ہوگا بلکہ بے انتہا منافع میں تبدیل ہو جائے گا۔پس مومن کی ساری زندگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہی مضمون جاری وساری دکھائی دیتا ہے۔جو مال وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ بھی اسی دنیا میں دوسری دنیا کا تو الگ معاملہ ہے اسی دنیا میں اتنا بڑھا چڑھا کر اس کو اور اس کی اولادوں کو لوٹایا جاتا ہے کہ وہ شکر کے گیت گاتے گاتے تھک جاتا ہے لیکن شکر کا حق ادا نہیں ہوتا۔مومنوں کی جماعت کو معمولی سا نقصان پہنچتا ہے ارتداد کی صورت میں یا بعض جانی نقصان کی صورت میں۔اس کے مقابل پر اتنے زیادہ خدافضل نازل فرماتا ہے، فوج در فوج نئی جماعتیں ان کو عطا کرتا ہے نئے علاقوں میں بکثرت ان کا دین پھیلنے لگتا ہے اور اسے نئی تمکنت عطا ہونے لگ جاتی ہے، نئی قوموں میں وہ داخل ہو جاتے ہیں۔جہاں تک خدا کے فضلوں کا تعلق ہے ان کو دیکھ کر اگر وہ ان نقصانات کا ہی رونا روتے رہیں تو بہت ہی زیادہ ناشکری ہوگی اور کم فہمی ہوگی ، بدذوقی ہوگی۔اس لئے جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو قربانی دینے والے ہیں ان کو کوئی غم نہیں۔جو پیچھے رہنے والے ہیں ان پر خدا بحیثیت جماعت اتنے فضل نازل فرماتا ہے اور قربانی کرنے والوں کی اولا دوں پر نسلاً بعد نسل اتنے فضل نازل فرماتا ہے کہ ان کو جو محرومی کا احساس تھا وہ بہت جلد ختم ہوکر خدا تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کے سامنے ان کی روحیں ، ان کے وجود، ان کے سر، ان کی ساری زندگیاں جھکنے لگ جاتی ہیں۔