خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد ۵ 279 خطبہ جمعہ ا اراپریل ۱۹۸۶ء گیت گائیں اور استغفار سے کام لیں کیونکہ حقیقت میں یہی فتح ہے جس نے بچی فتح اسلام کو عطا کرنی ہے۔اگر اس سے توجہ ہٹ گئی تو پھر اور طرف آپ کے رخ پھر جائیں گے۔پھر آپ کے اوقات میں غیر اللہ کے حصے بڑھنے شروع ہو جائیں گے۔مجھے تو یہ بھی خوف لاحق ہوا کہ ایک ایسا وقت بھی جماعت پر گزرا ہے ابتلا کا جس میں چونکہ سیاست میں حصہ لے ہی نہیں سکتے تھے اس لئے وہ لوگ جو پہلے سیاست میں لذتیں حاصل کرتے تھے انہوں نے دین کی طرف توجہ کی اور اپنے وقت دین پر قربان کرنے لگ گئے۔مجھے یہ خوف دامن گیر ہوا کہ خدانخواستہ اگر سیاست احمدیوں پر دوبارہ کھولی گئی اور خدا کی تقدیر ایسا کرسکتی ہے تو پھر دوبارہ کہیں وہی غلط چسکے اور بگڑے ہوئے مزاج نہ پیدا ہو جائیں اور جو وقت احمدیت کے لئے دیا جاتا تھا کہیں نعوذ بالله من ذالک پھر سیاست میں نہ صرف ہونا شروع ہو جائے۔کچھ نہ کچھ حصہ سیاست کا ایمان سے بھی تعلق رکھتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ اگر حب الوطن ایمان ہے تو حب الوطن کی خاطر سیاست کی اصلاح، سیاسی صحت مند دلچسپیوں میں کچھ نہ کچھ حصہ لینا یہ ایمان بھی بن سکتا ہے ایمان کا بھی ایک پہلو کہلا سکتا ہے ، یہ کرنے والے کی بات ہے کہ کس نیت سے کرتا ہے اور کس رنگ میں کرتا ہے لیکن امکان موجود ہے۔لیکن اگر سیاست اس طرح کھینچے جس طرح میٹھا مکھی کو کھینچتا ہے یا بعض مکھیوں کو گند کھینچتا ہے اور مغلوب کر لے اور دین ایک ثانوی چیز نظر آنے لگے اور سیاسی نمبر داریاں اور سیاسی رعب اور سیاسی حیثیتیں بڑی ہو کر دکھائی دینے لگیں تو پھر یہ بہت ہی نقصان کا سودا ہوگا اس لئے ایک نہیں کئی قسم کے فکر بھی ان تبدیلیوں کے نتیجہ میں مجھے دامن گیر ہو گئے ہیں اور میں جماعت کو ابھی سے متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ جو بھی تبدیلی ظاہر ہو اس سے اپنے کردار پر غلط اثر نہ پڑنے دیں۔جو راہیں آپ نے متعین اپنے لئے کرلی ہیں وہ سب سے اچھی راہیں ہیں ، ان سے بہتر کوئی راہ نہیں۔بظاہر جن ذلتوں کو آپ پر وارد کیا گیا ہے وہ عزتوں کے مقام ہیں، وہ شرف کے مرتبے ہیں۔انہی میں اپنی عزتیں سمجھیں اور انہی میں شرف کو ڈھونڈیں اور ہرگز دنیا وی عزتوں کو کوئی اہمیت نہ دیں، اپنے دلوں پر اپنے نفوس پر ان کو غالب نہ آنے دیں۔یہ عہد باندھ کر ، آنکھیں کھول کر آگے بڑھیں۔پھر جو نمبنی تعلقات ہیں سیاست کے ساتھ اور جو ایمانی تقاضوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں ان کو سرانجام دینا تو ہر گز اسلام کے یادین کے خلاف نہیں ہے۔ان شرائط کے ساتھ ان پابندیوں کے