خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 280
خطبات طاہر جلد۵ 280 خطبہ جمعہ اراپریل ۱۹۸۶ء ساتھ حصہ رسدی کچھ نہ کچھ وقت حب الوطن کی خاطر ہر احمدی کو اپنے اپنے وطن میں دینا ہوگا اور جو وقت کی قربانیاں ہیں وہ بھی کرنی ہوں گی لیکن دین بہر حال غالب ہے۔دین کو بہر حال فضیلت حاصل ہے، سیاسی تقاضوں کو ہرگز اجازت نہ دیں کہ آپ کے دین کی صورت بگاڑ سکیں کسی رنگ میں بھی اس کے نقش کو خراب کر سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے صاف لفظوں میں فرمایا ہے انا 66 الفتاح افتح لك۔تری نصرا عجیبا و يخرون على المساجد میں فتاح ہوں۔فتاح کہتے ہیں وہ ذات جو اندھیروں کو روشنی میں پھاڑ کر تبدیل کر دیتی ہے جو جہالت کو علم میں بدل دیتی ہے اور جو معاملات کو کھول دیتی ہے اور قضا جاری کرتی ہے۔چنانچہ فتح الله علیہ کا ایک معنی عربی کی لغت کی رو سے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو علم وعرفان عطا کیا اور ایک معنی اس کا یہ بھی ہے کہ میں غلبہ عطا کرنے والا ہوں یعنی شرف اور بزرگی اور علم کی چابیاں رکھتا ہوں، ان کے دروازے کھولنے والا ہوں، روشنی کے باب کھولنے والا ہوں اور غلبہ بھی عطا کرنے والا ہوں۔لیکن کس قسم کا غلبہ؟ فرمایاتری نصرا عجیبا۔اے میرے پیارے بندے جو میں نصر تجھے عطا کرنے لگا ہوں وہ عام دنیا کی نصر سے مختلف ہوگی تری نصرا عجیبا تو عجیب ہی قسم کی نصرت دیکھے گا میری طرف سے اور وہ کیا ہے؟ ویخرون على المساجد وہ نصرت اس طرح ہوگی کہ احمدی اپنی مساجد پر اپنی سجدہ گاہوں پر اوندھے منہ گر جائیں گے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو فتح ونصر کی تصویر اس وقت کھینچ کر دی گئی تھی اور یہ بتایا گیا تھا کہ ہم اس طرح کی فتح تمہیں عطا کرنے والے ہیں وہ فتح تو آپ کو حاصل ہو رہی ہے۔جس کو خدا فتح کہ رہا ہے جس کو نصر عجیب قرار دے رہا ہے اس پر اگر آپ راضی نہ ہوں اور ادنی فتوحات کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھیں اور شادیانے بجائیں کہ احمد للہ یہ فتح حاصل ہوگئی تو بڑی ناقدری کرنے والے ہوں گے۔یہ تو ایسی ہی بات ہوگی جیسے کوئی ہیرے اور جواہر پھینک کر کوئلے اور پتھر چن لے اور ان پر نازاں ہو جائے۔پگلیاں تو ایسی حرکتیں کرتی ہیں مگر عقل والی عورتیں تو ایسا نہیں کیا کرتیں۔وہ تو ہیرے جواہروں کو سینہ سے لگاتی ہیں اور پتھروں کو چھینکتی ہیں۔پگلیوں کو آپ نے دیکھا