خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 278
خطبات طاہر جلد۵ 278 خطبہ جمعہ ا اراپریل ۱۹۸۶ء ایک سیاسی انقلاب کا بیج بویا جارہا ہے، اس کی بنیادیں استوار ہورہی ہیں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ کس حد تک یہ معاملہ آگے بڑھتا ہے اور کس رنگ میں یہ معاملہ ختم ہوتا ہے لیکن جماعت احمدیہ کو میں یہ توجہ دلا نا چاہتا ہوں کہ ان چیزوں پر لَفَرِح فَخُورٌ (هود:۱۰) والا طریق اختیار نہ کریں۔ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر اچھل کے یہ نہ سمجھیں گویا کہ احمدیت کو فتح عطا ہوگئی۔ایک پارٹی کی بجائے دوسری پارٹی غالب آجاتی ہے۔اس سے جماعت احمدیہ کو فتح کیسے حاصل ہوسکتی ہے ، اس سے اسلام کو کیسے فتح حاصل ہو سکتی ہے۔اگر آپ ان چھوٹی باتوں پر راضی ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے جو رخ پھیرا ہے نہایت اعلیٰ اقدار کی طرف وہ رخ پھر ان سمتوں میں قائم نہیں رہے گا۔وہ جد و جہد کا جو آغاز ہو چکا ہے ہر احمدی کے دل میں اور اس کے اعمال میں ڈھل رہا ہے وہ عزم ،اس میں کمزوری واقع ہو جائے گی۔آپ سمجھیں گے کہ بس یہی تھی اللہ تعالیٰ کی فتح کہ ایک حکومت الٹ گئی اور ایک اور دوسری حکومت آگئی۔ہرگز یہ فتح نہیں ہے۔آپ کی فتح وہ ہے جو جنم لے چکی ہے آپ کے دلوں میں۔وہ اسلام کے لئے یہ عزم اور یہ عزم صمیم کہ ہم سب کچھ اسلام کے لئے قربان کر دیں گے لیکن کسی قیمت پر بھی اسلام کی شکست کو برداشت نہیں کریں گے۔اس کے نتیجہ میں جو اعمال میں تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں اور عبادتوں کی طرف جو لگاؤ بڑھ رہا ہے اور کسی حد تک آپس کے جھگڑوں سے بھی توجہ بٹ رہی ہے اور ایثار کی روح پیدا ہو رہی ہے یہ فتوحات ہی تو ہیں۔اگر آپ نہیں دیکھتے ان کوفتوحات کے طور پر تو پھر اپنی نظر کا علاج کریں۔صرف یہ فتوحات ہی نہیں بڑی عظیم الشان فتوحات کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے۔اگر یہ فتوحات مکمل ہو جائیں اور دنیا میں آنے والے عارضی انقلاب آپ کو ان کے رخ سے ہٹا نہ سکیں ، آپ کا رخ اسی طرح متعین رہے جس طرح مقناطیس کی سوئی کا رخ اس کے مقدر میں ہمیشہ کے لئے لکھا جاچکا ہے، لازماً ہمیشہ وہ Polestar کی طرف یا جہاں بھی مقناطیس کی قوت کا مرکز ہے اسی کی طرف رہے گا اس لئے اسی طرح صدق وصفا کے ساتھ اپنے قبلہ کو متعین کرلیں اور اس کی حفاظت کریں۔تو پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ پہلے ہی فتح کے راستے پر گامزن ہو چکے ہیں ، آپ کا ہر قدم اس قبلہ کی طرف آگے بڑھتا چلا جارہا ہے۔آپ اسلام کی فتح کے خواب جو دیکھ رہے تھے وہ آپ کی ذاتوں میں پورا ہورہا ہے۔وہ انقلاب عظیم برپا ہورہا ہے، وہ جماعت تیار ہو رہی ہے جس نے بالآخر اسلام کو دنیا میں پھیلا دیتا ہے۔اس پر راضی رہیں اور اس کی قدر کریں اور اس پر خدا کی حمد کے