خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 219 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 219

خطبات طاہر جلد۵ 219 خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء اگر وہ جاں کو طلب کرتے ہیں تو جاں ہی سہی بلا سے کچھ تو نپٹ جائے فیصلہ دل کا ( در ثمین صفحه: ۱۶۰) پھر ہمیں چار بجے کے قریب باری باری بلا کر فیصلہ سنایا جانے لگا۔رانا صاحب سے پہلے مجھے بلا کر جب فیصلہ سنایا گیا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے تسکین میرے سارے جسم میں بھر دی گئی ہے۔بے اختیار الحمداللہ کے کلمات منہ سے نکلے اور یوں لگا جیسے سارے بوجھ اتر گئے ہیں۔اردگر دسخت افسوس کا ماحول تھا اور ہم خوش ہورہے تھے۔دیکھنے والے ہمیں خوش ہوتا دیکھ کر حیران بھی ہوتے ہوں گے مگر ہم تو افسانہ بنی ہوئی تاریخ کو زندہ کر رہے تھے۔پھر ہمیں بظاہر جیل کی سخت ترین جگہ لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور درود شریف پڑھتے ہوئے دو تین دن گزارے اور اب پھانسی کی کوٹھریوں میں الگ الگ وارڈ میں ہیں اور دو تین دن کی بے قرار جد و جہد کے بعد اب میں آپ کو خط لکھنے میں کامیاب ہورہا ہوں۔پیارے آقا! ہم جو خادم کے عہد میں جان قربان کرنے کا وعدہ کیا کرتے تھے آج وقت آیا ہے اس وعدہ کو نبھانے کا۔بے شک ہم بہت کمزور ہیں بہت گنہگار ہیں لیکن آج جب ہمارے مولیٰ نے اسلام کے احیاء نو کے لئے ہمیں چنا ہے ہم اپنی پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ لبیک لبیک کہتے ہوئے اپنے مولیٰ کے حضور حاضر رہیں گے۔انشاء اللہ العزیز۔اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارے ایک وجود کے بدلے میں ہزاروں ، لاکھوں وجودوں کو زندگی ملے گی جو قیامت تک دشمنوں کے لئے جلن اور سخت سوزش کا موجب بنی رہے گی۔تو یہ ہیں ہمارے مصیبت زدگان بھائی ، جن کو عام اصطلاح میں مصیبت زدہ ہی کہا جاتا ہے لیکن مذہبی اصطلاح میں یہ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں خدا نے ابدی زندگی کے لئے چن لیا ہے۔وہ خوش نصیب ہیں جوارب ہا ارب انسانوں میں قسمت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور قسمت کے ساتھ