خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 218

خطبات طاہر جلد۵ 218 خطبہ جمعہ ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصُّبِرِينَ (الصافات: ١٠) کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں ان کی خواہش کے مطابق حضرت عبداللطیف صاحب شہید جیسی استقامت عطا فرمائے اور ان کی اس قربانی کو قبول فرمائے اور جماعت کو اس کے شیر میں ثمرات سے نوازے۔پھر لکھتے ہیں: کل دونوں اسیران راہ مولی ساہیوال سے ان کی پھانسی کی کوٹھڑیوں میں ہماری دوسری ملاقات ہوئی۔الحمد للہ کہ ان کو ہشاش بشاش پایا اور گذشتہ ملاقات کی نسبت ان کی حالت ہر لحاظ سے بہتر تھی بلکہ انہوں نے ملاقات کرنے والے عزیزان خصوصاً عورتوں کے حوصلے بڑھائے مثلاً الیاس منیر کی بہن ناصرہ کے اور اُس کی نانی صاحبہ جو کل ملاقات کر کے آئی ہیں اُن کی حالت پہلے سے بہت بہتر ہے ( یعنی اسیروں نے ان کے حوصلے بڑھائے ) اور خوشی خوشی دوسروں کو اپنے خوش کن تاثرات سنا رہی تھیں۔اُس کی بیوی طاہرہ نے تو بہت ہی حو صلے کا مظاہرہ کیا ہے۔اپنے دونوں بچوں طارق اور خالد کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ملاقات کے لئے آنے والی سینکڑوں عورتوں کو ہر روز صبر وسکون کی تعلیم دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو ہمت دے اور اس کے والدین کو بھی“۔آخر پر میں اپنے نہایت پیارے عزیزم الیاس منیر کا خط پڑھ کر سناتا ہوں۔یہ لکھتے ہیں : ۱۵ / فروری کو جب ہمیں سہ پہر کے وقت ڈیوڑھی طلب کیا گیا تو ہمیں پورا علم تو نہیں تھا کہ ہمارا فیصلہ کیا ہونے والا ہے۔تا ہم جس قسم کے انتظامات میں ہمیں لے جایا گیا اس سے کچھ کچھ اندازہ ہو گیا تھا۔چنانچہ اس ضمن میں آپس میں باتیں ہو رہی تھیں اور میری زبان پر سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا شعر جاری ہور ہا تھا: