خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 220

خطبات طاہر جلد۵ 220 خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ان کی پیدائش پر بھی اللہ کے پیار کی نظریں پڑتی ہیں، جن کی موت پر بھی اللہ کے پیار کی نظریں پڑتی ہیں، جو خود بھی مبارک بنائے جاتے ہیں اور جن کے وجود اپنے ماحول کو بھی مبارک کر دیتے ہیں۔جن کے خاندانوں پر نسلاً بعد نسل اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں اور خدا کی بے شمار برکتیں ان کے گھر بار پر برستی ہیں۔یہ وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو کامل طور پر رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (الفجر: ۲۹) کی حیثیت سے جب بھی خدا ان بلاتا ہے خدا کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔اس لئے جماعت احمدیہ کو ان کو ہمیشہ خاص دعاؤں میں یا درکھنا چاہئے اور ان کی اولادوں کو بھی اور اولاد در اولاد کو بھی اور جہاں تک جماعت کو توفیق ہے لازماًوہ ان کے تمام پسماندگان کا بہترین خیال رکھے گی۔اس موقع پر میں جماعت کو یہ بھی تسلی دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے جماعت احمد یہ میں کوئی خدا کی راہ میں مارے جانے والا ہر گز یہ وہم لے کر یہاں سے رخصت نہیں ہوتا کہ میرے بچوں کا، میری بیوی کا کیا بنے گا۔جماعت احمد یہ میں ایسے لوگوں کے بچے یتیم نہیں ہوا کرتے۔یہ ایک زندہ جماعت ہے اور ناممکن ہے یہ جماعت اپنے قربانی کرنے والوں کے اہل وعیال کو اور ان کے حقوق کو بھول جائے۔اس ضمن میں پہلے بھی میں نے صدرانجمن کو اورتحریک جدید کو اور دیگر تعلق رکھنے والوں کو یہ ہدایت دی تھی کہ ان مشکلات میں مبتلا بھائیوں کے لئے یہ خاص طور پر خیال رکھیں کہ ان کے اہل وعیال کو ان کی عدم موجودگی کا دکھ یا تکلیف ان معنوں میں نہ ہو کہ وہ ہوتے تو ہماری یہ ضرورت پوری ہوتی اور وہ ہوتے تو ہمارا یہ کام بنتا۔اس کے لئے جماعت ذمہ دار ہے اور جہاں تک مجھے اطلاعات ملتی رہی ہیں اگر چہ بعض دفعہ نا دانستہ کوتاہی ہوگئی ہے۔مگر بالعموم خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ جماعت کو ہر طرح ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی توفیق بخشی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دور بیٹھے اس قسم کی تفصیلی نگرانی نہیں ہوسکتی جیسے قریب بیٹھ کر ہوسکتی ہے۔اس لئے بعض شکایات بھی موصول ہوئیں اس پر میں نے فوری طور پر منتظمین کو سرزنش بھی کی اور بتایا کہ آپ نے قطعاً کوئی مالی لحاظ سے کسی پہلو سے کوئی فکر نہیں کرنا اور ہرگز ان لوگوں سے کوئی کنجوسی نہیں کرنی۔خدا کا مال ہے، خدا کی امانت ہے ہمارے پاس اور یہ اول ترین استحقاق رکھنے والے لوگ ہیں۔جماعتوں کی زندگی کی ضمانت اس بات میں ہے،الہی جماعتوں کی زندگی کی ضمانت کہ اُن