خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 214

خطبات طاہر جلد۵ 214 خطبہ جمعہ ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء اور جوان کا مقام ہے اس سے بڑھ کر باتیں کرنے والے دکھائی دیتے ہیں۔سب سے زیادہ قریبی وہ لوگ ہیں جو مصیبت زدگان کے رشتہ دار ہیں۔ان کی بیوی، ان کے بچے ان کے بھائی ، ان کے خاوند ، ان کی بہنیں ، یہ وہ لوگ ہیں، خاوند تو جیلوں میں ہیں، میرا مطلب تھا کہ ان کی بیویاں اور انکے بھائی وغیرہ۔جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے وہ پہلے گروہ سے بھی زیادہ ایمان اور تقویٰ کا عظیم الشان مظاہرہ کر رہے ہیں۔ان کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ والشبقُونَ الْأَوَّلُونَ (التوبه: ١٠٠) كن لوگوں کو کہتے ہیں۔خود وہ جن پر خدا کی خاطر ، خدا کے نام کی خاطر مصائب تو ڑے جارہے ہیں اور وہ جوان کے قریب ترین ہیں۔ان کے نمونے صبر و ثبات کے، تقویٰ کے، توکل کے اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کے، ایسے عظیم الشان ہیں کہ وہ ہمیشہ تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ہمیشہ آنے والی نسلیں ان کو دعائیں دیں گی اور رشک کریں گی ان کے خلوص اور ان کے تقویٰ پر۔یہ حالات دیکھنے کے بعد یہ حکمت بھی سمجھ آگئی کہ کیوں خدا نے ان لوگوں کو خاص قربانی کے لئے چنا تھا۔قربانی کے لئے چنا جانا بھی ایک انعام ہے اور ایک بڑی عظیم سعادت ہے۔اللہ تعالیٰ جب کسی کو چلتا ہے تو اس میں یا اس کے خاندان میں ضرور کوئی بات دیکھتا ہے جس کے لئے وہ انتخاب کیا جاتا ہے۔جس طرح حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا جو انتخاب کیا تھا ، وہ سارے افغانستان میں دل کی حیثیت رکھتے تھے، روح کی حیثیت رکھتے تھے بلکہ سارے مشرق میں ایک نمایاں امتیازی شان رکھتے تھے اور اسی لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی شہادت کو غیر معمولی اظہار محبت کے لئے چنا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے انتخاب کی بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ کیوں بعض خاندانوں اور بعض افراد کو قربانی کے لئے چتا ہے۔ان کے اندر تقویٰ کی کوئی ایسی روح نظر آتی ہے، کوئی ایسی قربانی کی تمنا دکھائی دیتی ہے کہ جس کی وجہ سے ان کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو قربانی نہیں دے رہے یعنی جن سے قربانی نہیں لی جارہی۔دینے کے لئے تو جماعت کی بھاری اکثریت تیار بیٹھی ہے ان میں کوئی نقص ہے۔میرا ہر گز یہ مطلب نہیں، صرف یہ مطلب ہے کہ جب خدا کی نظر چنتی ہے کسی کو تو اس کی سعادت اُبھر کے سامنے آجاتی ہے، وہ تو چمک اٹھتی ہے۔اور سعادت کے بغیر خدا کی نظر کسی کو نہیں چھنتی۔ورنہ ایسے بہت سے ہیں جن کا