خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 215

خطبات طاہر جلد۵ 215 خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء قرآن کریم خود ذکر فرماتا ہے فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب :۲۴) کہ جن کو ہم نے قربانی کے لئے چن لیا ہے صرف وہی نہیں ہیں جو میری نظر میں عزیز ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو انتظار میں بیٹھے ہیں اور وہ انتظار میں بیٹھے رہنے والے بھی میری محبت اور پیار کی نظر کے نیچے ہیں۔یہ ہے دراصل اس اظہار کی روح۔بہر حال آج کے خطبہ کے لئے میں نے بعض راہ مولیٰ میں دکھ اٹھانے والوں کے خطوط اور ان کے اعزاء و اقرباء کے خطوط کے چند اقتباسات چنے ہیں۔جماعت کو یہ بتانے کے لئے کہ اس طرح خدا کی راہ میں عزم اور حوصلہ کے ساتھ قربانیاں دی جاتی ہیں اور ان کے نمونے نے آپ سے کیا تقاضے پیدا کئے ہیں۔ان کے نیک اعمال نے آپ کے لئے کیا راہ متعین کی ہے اور اس لئے کہ تا آپ پہلے سے بڑھ کر ان کو دعاؤں میں یا درکھیں۔سکھر جیل میں ہمارے دو بھائی برادرم ناصر احمد قریشی اور رفیع احمد قریشی ہیں پروفیسر ناصر احمد قریشی بڑے ہیں۔ان کا خط ملا ہے پھانسی گھاٹ سینٹرل جیل سکھر 4/3/86۔بڑی محبت اور پیار سے مجھے مخاطب کرنے کے بعد، السلام علیکم لکھنے کے بعد لکھتے ہیں کہ وو " حضور کے علم میں تو آچکا ہوگا کہ کل مورخہ تین مارچ کو ہم دو بھائیوں راقم الحروف ناصراحمد اور رفیع احمد کو سزائے موت کا حکم جیل سپرنٹنڈنٹ سکھر نے غالباً ساڑھے گیارہ بجے دن سنایا اور پھر ہمیں بند وارڈ پھانسی گھاٹ میں کھدر کے کپڑے اور ٹوپی پہنا کر بند کر دیا گیا۔حضور ! ہماری جانیں ، مال ، عزت، اولاد، آبر وسب خدا کے حضور حاضر ہے۔صرف وہ راضی ہو جائے۔ظالم جتنا ظلم چاہیں کر لیں، تختہ دار پر بے گناہ لٹکا دیں۔ہماری مسکراہٹ اللہ کی رضا کی خاطر قائم رہے گی۔اور خدا اور قرآن کی جھوٹی قسمیں کھا کھا کر دروغ گوئی سے کام لینے والوں کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہوں گے۔کبھی تو ان کا ضمیر ان کو ملامت کرے گا۔آخر سکھر کے لوگ ایک نہ ایک دن حقیقت کا اعتراف کریں گے کہ ہم بے گناہ تھے۔باقی پانچ اسیران بشمول میرا لڑکا عمر اٹھارہ سال کا معاملہ ابھی التواء میں ہے۔( یہ فیصلہ بعد میں