خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 213

خطبات طاہر جلد۵ 213 خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء اسیران ساہیوال اور سکھر کے بلند حو صلے کا ذکر اور سیدنا بلال فنڈ کا قیام ( خطبه جمعه فرموده ۱۴/ مارچ ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: جب سے ساہیوال اور سکھر کے مقدمات کا جابرانہ فیصلہ سنایا گیا ہے اس وقت سے جماعت کی طرف سے جو خطوط مل رہے ہیں ان میں اکثر میں اس بارے میں بے چینی کا اظہار پایا جاتا ہے اور مختلف رنگ میں اپنے اپنے خیالات، اپنے اپنے اندازِ بیان کے مطابق اپنے درد کا بھی اظہار کرتے ہیں دعاؤں کا بھی ذکر کرتے ہیں اور بعض خطوں میں یہ بھی تحریک ہوتی ہے کہ جو ممکن کوشش ہو وہ کرنی چاہئے۔لیکن اکثر خط ایسے ہیں جو اس بات میں بھی پوری طرح اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمیں علم ہے کہ ہم سے بہتر نظام جماعت کو ان کا اور ان کے اہل خاندان کا فکر ہوگا اور ہمیں پورا اطمینان ہے کہ جو کوشش بھی انسانی حد تک ممکن ہے وہ ان کے لئے کی جارہی ہوگی۔یہ وہ لوگ ہیں جو تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر ہیں، جن کو کامل اعتماد ہے نظام جماعت پر اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کام کرنے والے پیچھے چھوڑے ہیں ان کی صلاحیت پر لیکن کچھ لوگ اپنی بے چینی کے اظہار میں اس معیار پر پورے نہیں اترتے اور اشارۃ ایسی باتیں لکھتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو پورا اطمینان نہیں ہے کہ جماعت کیا کر رہی ہے۔بعض خطوں میں تو مطالبے آتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ جماعت کیا کر رہی ہے۔ان لوگوں کے خطوں سے ایمان میں نقص کی بو آتی ہے