خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 193

خطبات طاہر جلد ۵ 193 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء زیادہ تھی برداشت اس لحاظ سے کم تھی ، تقریباً اسی برس کے لگ بھگ ہو نگے۔نظر بھی بہت کمزور ہو چکی تھی۔اس لئے احباب جماعت کو انہوں نے کہا کہ تم جاؤ میں مسجد میں بیٹھ کر ہی اللہ کے حضور گریہ وزاری کرتا ہوں۔چنانچہ احباب جماعت ان کو چھوڑ کر رخصت ہو گئے اور کافی دیر مغرب کی نماز کے بعد یہ وہاں بیٹھے رہے اور خدا کے حضور مناجات اور گریہ وزاری کرتے رہے۔جب باہر نکلے تو قاتل بر چھیاں لے کر ان کا انتظار کر رہے تھے اور جن کی نظر ویسے بھی نہیں تھی، عمر بھی اتنی تھی کہ دوڑنے کی یا اپنے آپ کو بچانے کی طاقت نہیں تھی ، ان پر بار بار ہر چھیوں سے حملہ کیا اور ہر دفعہ غرہ تکبیر بلند کیا کہ اتنی عظیم الشان ہم اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔آٹھ زخم برچھیوں کے ان کے سینے پر اور ان کی پیٹ پر لگے اور وہ نعرے لگاتے ہوئے ، اسلام کی فتح کا جشن مناتے ہوئے دوڑ گئے اور دیکھنے والوں نے دیکھا لیکن کسی نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔پولیس نے کسی پر مقدمہ درج نہیں کیا، کوئی تفتیش نہیں کی اور نے نے ے پر مقدمہ درج نہیں کوئی کیاور جماعت احمدیہ کو ، ان کے پس ماندگان کو یہ تسلی دیتے رہے کہ ہم تحقیق کر رہے ہیں اور باوجود اس کے کہ قرائن بتا رہے تھے کہ بعد مساجد کے ملاں اس کے ذمہ دار ہیں لیکن کوئی پوچھ کچھ نہیں کی گئی۔اس واقعہ کے کچھ عرصہ کے بعد وہاں ایک مسجد میں بم پھٹا اور اس بم کے نتیجہ میں دو طالب علم مسجد کے موقع پر ہلاک ہو گئے اور کچھ زخمی ہوئے۔فوری طور پر سارے سکھر میں علماء نے اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی کہ یہ بم قریشی شہید کے بچوں نے چلایا ہے۔اور پہلی ایف آئی آر میں دو نام درج کرائے یعنی محمد ناصر قریشی صاحب اور محمد رفیع صاحب۔اُس پر جہاں تک میں نے بیان کیا ہے ، عوام الناس کا تعلق ہے چونکہ وہ پہلے بھی جانتے تھے کہ یہ علماء کس کردار کے ہیں اور جماعت احمدیہ مظلوم ہے اس لئے اُس جلوس میں جو انتہائی اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا اور نہایت ہی خطرناک زبان استعمال کر رہا تھا۔سلسلہ کے بزرگوں کے خلاف نہایت فحش کلامی میں ملوث تھا اور اس کے علاوہ قتل و غارت کی عام تعلیم دے رہا تھا۔اس جلوس میں سوائے ڈیڑھ دوسو کے قریب مدرسوں کے طالب علموں یا پیشہ ور مولویوں کے اور کوئی شامل نہیں ہوا اور اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُس جلوس کی حیثیت اور نوعیت کیا تھی اور کس حد تک عوام الناس احمدیوں کو مجرم سمجھتے تھے۔اگر سکھر کے عوام احمدیوں کو مجرم سمجھ رہے ہوتے تو کوئی احمدی گھر ایسا نہیں تھا جو اس وقت بچ سکتا۔بہر حال جلوس نے اس کا انتقام اپنے ہاتھوں سے تو اس طرح لیا کہ بعض احمد یوں