خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 194
خطبات طاہر جلد ۵ 194 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء کی دکانیں لوٹ لیں اور پولیس میں جو ایف آئی آر درج کروائی اس میں یہ لکھا کہ قریشی مرحوم کے دونوں بیٹے تو ہم نے اپنی آنکھوں سے بم پھینک کر دوڑتے ہوئے دیکھے ہیں۔پولیس کی کارروائی فوری بعد یہ ہوئی کہ ان دونوں کو اپنے گھروں سے فوری طور پر اس طرح قید کیا گیا کہ سارے گھر کی چیزیں الٹ پلٹ کر دیں بیوی بچوں کو وہاں سے نکال دیا۔اور ان کو قید کر کے جب لے گئے دوسری جگہ تو پیچھے سے گھر کا سارا سامان پولیس نے لوٹ لیا۔تمام قیمتی چیزیں غائب کر دیں اور اس طرح عوام الناس کے ساتھ سکھر کی پولیس بھی اس عظیم الشان ثواب میں شامل ہوگئی۔یہ تصور ہے ان لوگوں کے خدمت اسلام کا یہ تصور ہے، ان کا حق اور تقویٰ کا یہ تصور ہے نعوذ بالله من ذالک سنت کا۔اس طرح یہ اسلام کی خدمت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔پھر صرف ان دونوں ہی کو نہیں بلکہ اس کے علاوہ چھاپے مار کے دور دور سے لوگوں کو پکڑا۔بڑوں کو بھی پکڑا ان کے بچوں کو بھی بعضوں کو ساتھ قید کیا۔بعض بوڑھوں کو دور کے دیہات سے پکڑ کر لے آئے اور ان کو بھی جیل میں ٹھونسا۔جو کراچی کے خدام ان لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے وہاں پہنچے انکو بھی قید کیا گیا۔ہر طرف ایک ظلم و ستم کا ایک بازار گرم کر دیا گیا اور یہ سب کا سب حکومت کے کارندوں کی طرف سے ہوا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے عوام الناس کا جہاں تک تعلق ہے نہ ملاں کے ساتھ تھے اور نہ ہیں اور وہ سب جانتے تھے ، آج بھی جانتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ کا پلندا ہے۔یہ مقدمہ اتنا بودا تھا ایسا بے حقیقت تھا کہ علماء کو علم تھا کہ اگر سول کورٹ میں یہ مقدمہ چلایا - جائے تو ہر چند کہ وہاں بھی انصاف کا اور تقویٰ کا معیار ایسا بلند نہیں مگر بہر حال سول کورٹ میں کچھ نہ کچھ احساس ذمہ داری پایا جاتا ہے۔مجسٹریٹ اور جج فیصلہ دیتے وقت حالات کو کلیۂ نظر انداز نہیں کر سکتے۔اس پر اپیل بھی ہوئی ہوتی ہے۔اس کے اوپر پھر اپیل ہوسکتی ہے۔اس لئے بالا عدلیہ کی نگاہیں پڑنے والی ہوتی ہیں معاملہ پر ، ان ساری باتوں کا خوف اگر خدا کا خوف نہ بھی ہو تو ان کو اپنی عدود کے اندر کسی حد تک رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ان کو اتنا یقین تھا کہ ناممکن ہے کہ یہ مقدمہ عام عدالت میں ٹھہر سکے کہ اس بات پر بڑے بڑے احتجاجی جلوس نکالے گئے اور مساجد میں خطبے دیئے گئے کہ ہم سارے سکھر کو آگ لگا دیں گے اگر یہ مقدمہ فوجی عدالت میں پیش نہ ہوا اور فوج نے جو اپنی تصویر بنالی ہے اپنی آج پاکستان میں، بدقسمتی سے ایسی ہے کہ جو بد دیانتی سول (Civil) نہیں کر سکتی