خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 192
خطبات طاہر جلد۵ اور پھر فرمایا: 192 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء گزشتہ جمعہ میں میں نے احباب جماعت کو تقوی کی تلقین کی تھی اور اسی مضمون کے میں آج اس دوسرے خطبہ میں مضمون کو آگے بڑھانا تھا لیکن اس دوران پاکستان سے ایک ایسی خبر موصول ہوئی جس کے نتیجہ میں اس مضمون کو میں آئندہ خطبہ کے لئے ملتوی کرتا ہوں اور اس خبر سے متعلق احباب جماعت کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ساہیوال کیس کے نہایت ظالمانہ فیصلہ کے بعد اب سکھر کیس کا بھی ایک ویسا ہی بلکہ بعض پہلوؤں سے اس سے بھی بڑھ کر ظالمانہ فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔احباب جماعت کو اختصار کے ساتھ تو اخبارات کے مطالعہ سے بھی اور جماعتی اطلاعات کے ذریعہ بھی اس فیصلے کا علم ہو چکا ہے لیکن اس سے متعلق کچھ مزید تفصیلات میں آج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تا کہ یہ پورا واقعہ اور اس کا پس منظر آپ کے ذہنوں میں محفوظ ہو اور جب دشمن غلط باتیں کرے یا بعض دوستوں کو صحیح حالات پہنچانا چاہتے ہوں تو آپ کو واضح طور پر علم ہو کہ کیا واقعہ، کیسے ہوا؟ سکھر میں سب سے پہلی بات جو نہایت ہی دردناک جماعت احمد یہ کو پیش آئی وہ ہمارے امیر ضلع مکرم قریشی عبدالرحمن صاحب کا نہایت سفا کا نہ قتل تھا اور اس قتل کے اوپر وہاں تمام مساجد میں خوشیاں بھی منائی گئیں اور بڑے نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوئے اور جن لوگوں نے قتل کیا ان کو عظیم الشان مجاہد بھی قرار دیا گیا لیکن جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے سکھر کے عوام نے اس بات کو بہت ہی بڑا منایا اور اگر چہ وہاں شرافت گونگی ہے مگر اتنی گونگی بھی نہیں کہ احباب جماعت کے سامنے بھی نہ بولے۔چنانچہ وہاں یہ منظر دیکھنے میں آیا کہ خصوصاً حکومت کے کارندے اور دیگر عوام جن کو باشعور عوام کہا جاتا ہے وہ لوگ احباب جماعت کے سامنے تو اس معاملہ میں بڑی نفرت کا اظہار کرتے رہے لیکن اتنی جرات بھی نہیں تھی کہ کھل کر اس کے خلاف کوئی بیان دیں سوائے اس کے کہ بارایسوسی ایشن نے جرات مندانہ قدم اٹھایا اور اس واقعہ کے خلاف افسوس کا اظہار کیا۔ان کا قتل اس طرح ہوا کہ یہ مغرب کی نماز پڑھ کے مسجد میں ہی بیٹھ گئے کیونکہ اس سے کچھ عرصہ پہلے ہی آرڈینینس جو نہایت ہی ظالمانہ اور اُتنا ہی احمقانہ آرڈینینس ہے ، وہ جاری ہو چکا تھا اور پولیس زبر دستی مسجد سکھر سے کلمہ طیبہ مٹا چکی تھی۔اس کا ان کی طبیعت پر بہت گہرا اثر تھا۔چونکہ عمر بھی