خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 184
خطبات طاہر جلد۵ 184 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء ہونے شروع ہو جائیں گے اور جس کو خدا سے معاملہ سیدھا کرنے کی عادت پڑے اس کی برکت سے لازماً پھر بندوں پر بھی اس کے معاملات پر نیک اثر پڑتا ہے، بندوں کے ساتھ اس کے معاملات بھی ساتھ ساتھ سدھرنے لگتے ہیں۔اس لئے میں اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور مثالیں تو بے شمار ہیں ایسی جن کو کھول کھول کر پیش کیا جا سکتا تھا لیکن ایک دو نمونہ بیان کرنی کافی ہیں۔ہر موصی اور ہر غیر موصی کو اپنے معاملات میں صاف اور سیدھا چلنا چاہئے۔جو بے شرح دیتے ہیں سولہواں حصہ، وہ بھی اس طرح قصور وار ہیں۔اصل میں ہوتا یہ ہے کہ ان کا نفس وہاں بھی ان کے لئے بعض بہانے رکھ دیتا ہے وہ کہتے ہیں فلاں وقت سپین کے خطبے میں اجازت تو دے دی تھی نا اور یہ جو شرط ہے کہ ہم ان کو لکھ کے مانگیں اجازت یہ تو زائد چیز ہے عملا تو اجازت مل گئی ہے اور اس طرح وہ اپنے نفس کو دھوکہ دے کر ایک غلطی کے مرتکب ہونے لگ جاتے ہیں حالانکہ بالکل غلط بات ہے کہ وہ ایک زائد چیز ہے۔انسانی نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے وہ بات کی تھی اور انسان کے خدا سے معاملات کوملحوظ رکھتے ہوئے وہ بات میں نے خطبہ میں بیان کی تھی۔بات یہ ہے کہ ایک شخص اپنے طور پر اگر وہ 16000 میں سے ایک ہزار 1000 نہیں دے سکتا تو اگر وہ یہ بات میرے سامنے لائے تو جھجھکے گا۔وہ کوشش کرے گا کہ بجائے اس کے کہ میں اجازت لوں کوشش کرتا ہوں زور لگا کے دیتا ہی رہوں۔کھل کر میرے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھے یہ بتائے کہ میری شرح کم ہونی چاہئے۔اس کے لئے اس کا نفس حجاب محسوس کرتا ہے اور چونکہ حجاب محسوس کرتا ہے اس لئے وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے کوشش کرتا ہے کہ بہت اچھا میں فلاں جگہ سے سمیٹ لیتا ہوں۔فلاں کام کو سمیٹ لیتا ہوں فلاں خرچ کو کم کر لیتا ہوں۔اور یہ تو بری بات لگتی ہے کہ میں لکھوں کہ مجھے یہ کم چندہ کیا جائے۔میں تو باوقار آدمی ہوں، مجھے جانتے ہیں یا نہیں جانتے یا جو بھی شکل ہے ایک دل میں شرم محسوس ہوتی ہے۔یہ شرم مددگار ہے جماعت کی۔یہ شرم اس کی مددگار ہے، اس کو نیکی کی توفیق بخشتی ہے۔اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے یہ لکھا تھا۔پھر اس لئے بھی لکھا تھا کہ جب کوئی شخص لکھتا ہے تو بعض دفعہ معلوم ہو جاتا ہے کہ بیچارا بالکل مجبور ہو چکا ہے۔بعض دفعہ ایسے درد سے اس کے لئے دعا اٹھتی ہے کیونکہ اس کی تحریر کا ایک ایک لفظ کہہ رہا ہوتا ہے کہ بڑے