خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 183 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 183

خطبات طاہر جلد۵ 183 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء ہے اور صحت مند ہے اور وہ نیکی جو طاقت سے بڑھ کر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس میں اور بیماریاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔طاقت سے بڑھ کر نیکی کرنے والے کے اندر بسا اوقات ریاء داخل ہو چکی ہوتی ہے۔طاقت سے بڑھ کر نیکی کی کوشش کرنے والے دو قسم کے ہی ہیں یا تو وہ جو کرتے ہیں اور اپنے نفس کو ہلاک کر دیتے ہیں نیکیوں میں یا وہ جو کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن خفیہ طور پر بچ جاتے ہیں۔ایسے وہ لوگ ہیں جو لا زم ریاء کر رہے ہیں جو ظاہر یہ کر رہے ہیں کہ ہمیں نیکی کا شوق ہے اور دیکھو ہم اتنی نیکی کی کوشش کرتے ہیں اور جہاں جہاں اندر تو فیق ملتی ہے وہ اس نیکی کے نتیجہ میں اپنے مفادات کے جو خطرات ہیں ان کی پیش بندی بھی کرتے چلے جاتے ہیں۔وصیت بھی کر دیتے ہیں ، جائیدادیں بھی کما لیتے ہیں بچوں میں تقسیم بھی کر دیتے ہیں اور خدا کو دینے سے بچ بھی جاتے ہیں۔میں جماعت کو متنبہ کرتا ہوں کہ یہ معاملات اگر خدا سے رہے تو بندوں سے معاملات کیسے سیدھے ہوں گے۔کیسے قضاء ان معاملات کو درست کرے گی ، اصلاح وارشاد کی حیثیت کیا ہے کہ ایسے بندوں کے آپس کے معاملات درست کر دے جن کے خدا سے معاملے درست نہیں ہیں۔ناظر امور عامہ کون ہوتا کہ ایسے لوگوں کی اصلاح کرنے میں کامیاب ہو جائے جن کے مخفی تعلقات خدا سے بگڑے ہوئے ہیں۔اس لئے جماعت کو چاہئے کہ پہلے اپنی خدا کے ساتھ اصلاح کرے اور یہ ایک لحاظ سے زیادہ آسان ہے۔خدا کے معاملہ میں چونکہ انسان اپنے آپ کو بے بس اور بے اختیار پاتا ہے۔صرف اس کو باشعور ہونا چاہئے اگر وہ باشعور ہو کے خدا سے معاملے کرے تو اس کا بہت کم امکان ہے کہ اتنی دلیری دکھائے خدا پر کہ شعور کے ساتھ خدا کے حق مارنے کی کوشش کرتا ہو۔اسلئے ایسے آدمی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خود اپنے دماغ کو ایک غفلت کی نیند میں لے جاتے ہیں۔وہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں جس طرح کبوتر بلی کو دیکھ کے آنکھیں بند کر لیتا ہے اس طرح یہ بعض حقائق سے آنکھیں بند کر کے زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں کہ کچھ نہیں پتہ چل رہا کچھ نہیں ہورہا اسلئے آنکھیں کھولوخدا کے معاملات میں۔جب خدا سے معاملات میں آنکھیں کھولو گے تو تمہارے معاملات خود بخو دسیدھے