خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 179

خطبات طاہر جلد۵ 179 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء ماں باپ نے تو اتنی اتنی قربانیاں دی تھیں اور آج ہمارے ساتھ یہ سلوک ہورہا ہے۔قربانیاں دی تھیں تو خدا کے حضور پیش کی تھیں تمہارا تقویٰ خدا کو پہنچ گیا اگر کچھ تھا تو باقیوں سے کیا مانگ رہے ہواب تم۔باقیوں کے معاملے میں تو صرف یہ دیکھا جائے گا کہ اگر تم مستحق تھے کسی اچھے سلوک کے اور انہوں نے نہیں کیا تو قطع نظر اس کے کہ تم نے قربانیاں دی تھیں یا نہیں دی تھیں تم سے بدسلوکی کرنے والا خدا کا مجرم ہے۔اور اگر تم مستحق نہیں تھے اور جو سلوک کیا گیا وہ بدسلوکی نہیں بلکہ درست سلوک تھا۔تو چاہے تم نے کروڑوں قربانیاں دی ہوں ہرگز ایسا شخص خدا کے حضور مجرم نہیں ٹھہرتا۔تو بعد میں بِالمَنِ وَالْأَذى ( البقرہ: ۲۶۵) کا جو مضمون خدا نے ہمیں بتایا وہ عمل کر رہا ہوتا ہے یعنی بعض دفعہ من کے ذریعہ احسان جتا کر لوگ اپنی قربانیوں کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں بعض دفعہ دکھ کی بات کہہ کر طعن و تشنیع کے ذریعہ اپنی قربانیوں کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔تو تقویٰ کے مضمون کو اگر آپ سمجھیں تو آپ اپنی ہر قربانی پر نگران ہو جائیں گے ہر پہلو سے اس کی حفاظت کریں گے۔جس طرح ایک مرغی اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے اس طرح آپ اپنی ہر قربانی کی حفاظت کریں گے۔تا کہ خدا تک جو کچھ بھی ہے اگر وہ کم ہے تب بھی اور زیادہ ہے تب بھی پورے کا پورا پہنچے اور صحیح حالت میں پہنچے۔تو بہر حال بعض لوگ بد قسمتی سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چھپا سکتے ہیں ان باتوں کو۔اور پھر آگے یہ مضمون پھیلتا ہے تو ہر شخص کے پیمانے میں جا کر الگ الگ شکلیں بنالیتا ہے۔بعض موصی میں نے دیکھے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ خدا کوحق دیں جہاں شک کا معاملہ دیکھتے ہیں وہاں وہ خدا کے خانے میں زیادہ ڈال دیتے ہیں۔اپنے خانے میں کم ڈالتے ہیں اور یہ ایک تقوی کی طرز عمل ہے جو زندگی کے ہر معاملہ میں ان کے ساتھ چلتی ہے۔کئی ایسے وصیت کے معاملات میرے سامنے آتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی پوری جائیداد دے دی یعنی اس کی قربانی جتنا بنتا تھا وہ ادا کر دی اور اس کے بعد وہ جائیداد بیچی تو قیمت زیادہ ملی دفتر وصیت ان کو لکھتا ہے کہ آپ ایک دفعہ جائیداد کی قیمت دے بیٹھے ہیں اب مزید آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں وہ کہتے ہیں نہیں ہم نے جب قیمت ادا کی تھی اس وقت دس ہزار کی جائیداد تھی اب بیچی ہے تو بارہ ہزار میں کی ہے۔اس دو ہزار پر آپ وصیت لیں اور پھر دے کر چھوڑتے ہیں۔دس دفعہ مال تجارت کے چکر میں داخل ہو تو دس دفعہ وہ اس کی وصیت ادا کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں اب بھی ہم نے