خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 180

خطبات طاہر جلد۵ 180 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء کوئی خدا کا مال اپنے مال میں نہ رکھ لیا ہو اور اس کے باوجود وہ یہ نہیں سمجھتے کہ انہوں نے کوئی ایسی عظیم الشان نیکی کر دی ہے کہ ساری عمر اب جماعت پر احسان قائم رہے گا۔ایسے لوگ انکسار میں بھی زیادہ ہوتے ہیں اور یہی تقویٰ کی خاص نشانی ہے۔تقویٰ کی پہچان میں سے یہ ایک پہچان ہے کہ ہر وہ نیکی جو تقویٰ کے ساتھ کی جائے اس کے ساتھ تکبر نہیں آتا۔ہر وہ نیکی جو تقویٰ سے عاری ہواس میں لازماً تکبر داخل ہو جاتا ہے۔اور یہ اس کی تباہی کی پہلی نشانی ہے۔بہر حال اس کے مقابل پر ایسے لوگ بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ جہاں شک کا پہلو ہووہ اپنے حق میں فیصلہ کرتے ہیں۔اور اس کے درمیان درمیان بہت سی شکلیں بنتی ہیں جن کو ہم نے کئی دفعہ قانون کی صورت میں واضح کرنے کی کوشش کی لیکن اتنی مشکلات ہیں ان باریکیوں کو تہہ کر نے کہ بڑے بڑے صاحب تدبر اور صاحب فکر لوگ، زندگی کے ہر شعبہ کا تجربہ رکھنے والے وکلاء اور تجار اور زمیندار اور نوکری پیشہ اور حکومت کے ملازمین ہر قسم کے لوگ، انشورنس کے ماہرین مختلف علوم کے ماہرین وہاں اکٹھے کئے گئے اور بعض دفعہ دو دو سال کمیٹیوں نے غور کیا اور بالآخر اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے ادھوری رپورٹ پیش کر دی کہ اتنی مختلف شکلیں ہیں انسانی زندگی کی کہ کسی ایک قانون کے ذریعہ قطعی طور پر یہ واضح کرناممکن ہی نہیں ہے کہ فلاں معاملے میں مکان اگر تمہارا اپنا ہے تو وصیت کس طرح ادا کرو، اگر تم گورنمنٹ کے مکان میں رہتے ہو تو کس طرح ادا کرو ٹیکس دیتے ہو تو کس طرح ادا کرو، انشورنس دیتے ہو تو کس طرح ادا کر وہ کسی کمپنی نے تمہیں بعض سہولتیں دی ہوئیں ہیں تو کس طرح ادا کرو، کسی نے نہیں دی ہوئیں تو کس طرح ادا کرو، بے شمار زندگی کے معاملات کی شکلیں ہیں جو ادلتی بدلتی رہتی ہیں۔زمینداروں کی آمدنیوں کے حساب مختلف ہیں ، تاجروں کی آمد نیوں کے حساب مختلف ہیں ان سارے معاملات کو قانون کے تابع لا کر وضاحت کے ساتھ جماعت کے سامنے نہیں رکھا جا سکتا کہ جس کے بعد ہر موصی کہہ سکے کہ ہاں اب مجھے علم ہو گیا ہے اور چونکہ یہ ممکن نہیں ہے کوشش کی بھی جائے تو ادھوری ہوتی ہے اس لئے درمیان میں آکر پھر تقویٰ اپنے مناظر دکھاتا ہے۔ہر آدمی اپنے تقویٰ کے مطابق فیصلے کر رہا ہوتا ہے اور ہر فیصلہ ایک دوسرے سے الگ ہوتا چلا جاتا ہے۔اور بعض دفعہ وہ ایسی زمین میں رہتے ہیں کہ جہاں نظام جماعت معلوم ہونے کے باوجود ہاتھ نہیں ڈال سکتا لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ نے یہ ایک قانون