خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 178
خطبات طاہر جلد۵ 178 خطبه جمعه ۲۸ / فروری ۱۹۸۶ء ہوتا ہے۔ورنہ ایسے چندے جن کی جڑ میں بد دیانتی داخل ہو چکی ہو، بندے اور خدا کے معاملہ کے اندر بگاڑ آ گیا ہو وہ باقی سارے مال کی نیکی کو ضائع کر دیتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے ہمارے سامنے یہ اصول کھول کر رکھا لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ تَنَالُهُ (امج : ۳۸) التَّقْوَى مِنْكُمُ کہ تم جو قربانیاں پیش کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ کوتو نہ ان کا خون پہنچتا ہے نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے۔یعنی جہاں تک مادی حصہ کا تعلق ہے خدا تعالیٰ تک کچھ بھی منتقل نہیں ہوتا۔ہاں تقویٰ تم سے خدا کو پہنچتا ہے۔پس اگر خدا کے حضور انسان تھوڑا پیش کر سکتا ہے اور تقویٰ کے ساتھ وہ پیش کیا جاتا ہے تو اس کی بہت قدر ہے اور تقویٰ روپوں میں نہیں گنا جایا کرتا۔تقویٰ کے ماپنے کے پیمانے بالکل مختلف ہیں۔اس سے یہ راز بھی ہمیں معلوم ہوا کہ جب ہم خدا کے حضور پیش کرتے ہیں اور اگر ہمیں توفیق ہے ایک کروڑ روپیہ دینے کی اور اگر ہم ایک لاکھ پیش کرتے ہیں تو جہاں تک دنیا کا پیمانہ ہے تو بہت بڑی رقم پیش کی گئی ہے لیکن جہاں تک خدا تعالیٰ کا پیمانہ ہے ۱۰۰ / تقویٰ اس کو پہنچا جتنا تقویٰ اس کو پہنچنا چاہئے تھا اس کے مقابل یعنی امر واقعہ یہ ہے کہ تقویٰ کے پیمانے اس رنگ میں دیکھے جاتے ہیں حسب توفیق اور حسب نیت اور پھر اسی طرح ہی نہیں دیکھے جاتے اور بھی بہت سے اس کے پہلو ہیں جن پر بندے کی نظر پہنچ ہی نہیں سکتی۔کس قدر محبت تھی اس پیش کرنے میں۔کیا کیا قربانیاں شامل تھیں جذبات کی اس قربانی کو پیش کرنے میں۔پیار اور تقدس کے کیا کیا پہلو اس میں شامل تھے۔عجز کے کتنے پہلو اس میں شامل تھے ، قربانی کے بعد کا طرز عمل کیا تھا۔مثلاً یہ بعد والا پہلو جو ہے یہ ساری باتیں تقویٰ کے مختلف پہلو ہیں جو ہر نیکی پر اثر انداز ہورہے ہوتے ہیں، ہر نیکی کوگھیرے ہوئے ہوتے ہیں اور کسی ایک پہلو میں بعض دفعہ کمزوری ہو جائے تو اس پہلو سے دشمن داخل ہو جاتا ہے اور سب گھر کا مال لوٹ کے لے جاتا ہے۔بعد کے پہلو کے لحاظ سے بعض لوگ خدا کی خاطر قربانی کرتے ہیں اور بعد میں اگر نظام جماعت ان کے خلاف کوئی ایکشن لے کسی معاملہ میں تو وہ پھر گنانا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو خدا کی راہ میں یہ کیا تھا اور پھر یہ کیا تھا، یا بچے پھر گناتے ہیں کہ ہمارے