خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 176
خطبات طاہر جلد ۵ 176 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء جب ہم مالی معاملات میں تقویٰ کی بات کریں گے تو پہلے خدا سے بندے کے معاملہ کی بات کریں گے پھر بندوں سے بندے کے آپس کے معاملات کی بات کریں گے۔اس پہلو سے میں غور کر کے جماعت کے سامنے آج دو تین باتیں رکھنا چاہتا ہوں۔ان معاملات میں اگر جماعت تقویٰ کے اعلیٰ معیار کو حاصل کرے تو مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ بندوں کے حقوق میں بھی غیر معمولی طور پر نمایاں اصلاح کی صورت پیدا ہوگی۔انشاء اللہ تعالیٰ چندوں کے متعلق میں نے سپین کے خطبہ میں یہ ایک عام اعلان کیا تھا کہ وہ لوگ جو بعض مالی مشکلات کی بناء پر شرح کے ساتھ چندہ ادا نہیں کر سکتے ان کو چاہئے کہ وہ مجھے لکھ کر جماعت کی معرفت خواہ اکٹھی فہرستیں آجائیں ضروری نہیں کہ ہر ایک الگ الگ مجھے لکھے بہر حال اعلان یہ کیا تھا کہ وہ مجھے لکھ کر بتا دیں کہ ہماری شرح تو یہ بنتی ہے مگر ہم فلاں فلاں مجبوری کے باعث شرح کے مطابق چندہ ادا نہیں کر سکتے اور اس معاملہ کو تشہیر نہیں دی جائے گی اور بصیغہ راز معاملہ رکھا جائے گا اور میرے نزدیک ایسے لوگ بری الذمہ ہو جائیں گے کیونکہ حسب حالات تو فیق کے مطابق مالی قربانی اصل قربانی ہے اور خدا تعالیٰ یہ تقاضا ہی نہیں کرتا بندے سے کہ اپنی توفیق سے بڑھ کر وہ خدا کے حضور کچھ پیش کرے۔چندہ عام کا جہاں تک تعلق ہے میرا یہ اعلان تھا کہ چونکہ مجھے اختیار ہے کہ چندہ عام کی شرح حسب حالات کم کر دوں اس لئے وہ میں کم کر سکتا ہوں لیکن جہاں تک وصیت کا تعلق ہے وصیت کی شرح اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ، خدا تعالیٰ کی راہنمائی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقرر فرمائی ہے اور امام وقت وہ ہیں میں تو ان کا ایک ادنی غلام ان کی نیابت کرنے والا ہوں اس لئے اس میں مجھے قطعاً کوئی اختیار نہیں۔موصی کے اگر مالی حالات خراب ہوتے ہیں اور وہ شرح کے مطابق چندہ نہیں دے سکتا تو اس کے لئے آسان بات یہ ہے کہ وہ وصیت منسوخ کرالے۔اور اس میں کوئی گناہ نہیں۔ایک آدمی نیک نیتی سے وصیت کرتا ہے فیصلہ کرتا ہے کہ میں خدا کی راہ میں ہمیشہ جو کچھ بھی مجھے خدا عطا فرمائے گا دسواں حصہ واپس کرتا چلا جاؤں گا۔کسی موقع پر پہنچ کر اس کا حقوق العباد پر اثر پڑتا ہے اور خدا ہی کے حکم کے مطابق وہ یہ عرض کر سکتا ہے کہ اب میرے حالات اجازت نہیں دیتے اس لئے میں مجبور ہوں کہ اس وصیت کو ختم کروں لیکن جب تک کوئی موصی ہے اس