خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 177
خطبات طاہر جلد۵ 177 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء کو قطعاً کوئی حق نہیں کہ خدا کی طرف سے عطا کردہ آمد کچھ اور ہو اور وصیت رکھتے ہوئے وہ پھر دسویں حصے سے جو کم از کم شرح ہے اس سے کم دے رہا ہو اور یہ سمجھ رہا ہو کہ جماعت کے علم میں چونکہ بات نہیں آئی اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جماعت کو تو وہ دے ہی نہیں رہاوہ تو خدا کو دے رہا ہے اور خدا کی تو لمحہ لمحہ اس کے حال پر نظر ہوتی ہے۔دینے والا وہ ہے اس سے کس طرح چھپا سکتا ہے۔کہا جاتا ہے دائیوں سے کس طرح بدن کے راز چھپ سکتے ہیں۔دائیوں سے بہت بڑھ کر خدا جو قادر مطلق ہے اور خالق ہے اور عالم الغیب ہے اور عالم الشہادۃ ہے اور سمیع و بصیر ہے اس سے کیسے بندے کے راز چھپ سکتے ہیں۔اس لئے جب بھی انسان ایسے معاملات میں تقویٰ سے گرتا ہے جن معاملات میں کسی پہلو سے اس کا کوئی اختیار نہیں تو وہیں وہ خدا کی پکڑ کے نیچے آجاتا ہے اس کے سارے معاملات بے برکت ہو جاتے ہیں۔بعض بدیاں گھن کی طرح دوسری نیکیوں کو کھانے لگتی ہیں اور یہ ایک بہت ہی خطرناک زہر ہے جو جڑ کا کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا۔اس لئے ان چیزوں کو معمولی نہ سمجھیں۔خدا تعالیٰ کے معاملہ میں سب سے پہلے سیدھا ر ہیں سیدھا ہونے کی کوشش کریں اور اپنے نفس سے کھل کر بات کیا کریں۔بعض دفعہ انسان کو دوسرے کی بجائے اپنے نفس سے کھل کر بات کرنی ہوتی ہے۔بسا اوقات ایک انسان جرم میں آگے بڑھتا ہے اس لئے کہ وہ اپنے نفس سے شرماتا ہے اور آنکھ نہیں ملا تا اور اپنے نفس کی آواز کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور کھل کر اس سے معاملہ طے نہیں کرتا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کیوں کر رہا ہوں۔مجھے کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے۔لیکن بعض اوقات اپنے نفس کے ساتھ خوب کھلے ہوتے ہیں جس طرح بعض دوسرے انسانوں سے کھل کر معاملہ طے کرتے ہیں ان کو عادت ہوتی ہے وہ اپنے نفس سے ایک ذہنی گفتگو کرتے ہیں اور خوب کھنگال کر چیزوں کو صاف ستھرا سامنے لا کر دیکھتے ہیں۔تو اپنے نفس سے ایسے شخص کو کھل کر بات کرنی چاہئے کہ میں اگر اس لائق نہیں ہوں تو مجھے چھوڑ دینا چاہئے بجائے اس کے کہ میں زیادہ نیکی کے شوق میں جو ہاتھ میں آیا ہوا ہے اس کو بھی ضائع کردوں کتنی بیوقوفی کی بات ہے، مجھے تھوڑے پر راضی رہنا چاہئے ، جتنی نیکی کی مجھے توفیق ہے اتنے اس نیکی کے اندر رہوں اور اسی پر خدا کا شکر کروں اور اس سے زیادہ کی توقع رکھوں اور زیادہ مانگوں۔یہ ہے اصل حکیمانہ طرز جو خدا تعالیٰ سے بھی اختیار کی جاتی ہے تو فائدہ ہوتا ہے، بندوں سے بھی اختیار کی جاتی ہے تو فائدہ