خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 175

خطبات طاہر جلد ۵ 175 خطبه جمعه ۲۸ / فروری ۱۹۸۶ء جماعت کی مالی امور میں اصلاح کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر سکتے۔اس مضمون پر جب میں نے غور کیا تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہاں بھی درجہ بدرجہ جڑ کی بیماریاں بھی مختلف مقامات پہ پھیلی پڑی ہیں۔جڑ میں بھی کچھ سطحی بیماریاں ہیں کچھ نسبتا گہری کچھ اور گہری اور جوسب سے گہری جڑ کی بیماری ہے وہ ہے خدا تعالیٰ سے اپنے مالی معاملات کوصاف نہ رکھنا۔جس طرح بعض دفعہ انسان سے مضمون چلتا ہے خدا تک پہنچتا ہے۔اس طرح الٹ کر بعض دفعہ خدا سے مضمون چلتا ہے اور انسان تک پہنچتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا مَنْ لَّمْ يَشُكُرِ النَّاسَ لَمُ يَشْكُرِ الله ( ترمذی کتاب البر والصلہ حدیث نمبر : ۱۸۷۷) جس نے بندے کا شکر ادا نہ کیا، جس کا دل شکر گزار نہیں ہے اپنے ہم جنسوں کے لئے وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا۔تو دیکھیں انسان سے بات چلی اور خدا تک پہنچی۔اس کے برعکس یہ بھی ہوتا ہے کہ جو خدا کا حق رکھتا ہے مال میں اور خدا سے معاملہ صاف نہیں کرتا۔وہ بندوں سے بھی معاملہ صاف نہیں کر سکتا یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے مالی معاملات صاف اور سیدھے نہ رکھے اور بندوں کے ساتھ سیدھے رکھے۔اس کے برعکس یہ ہو سکتا ہے کہ بعض انسان اتنے گہرے بیمار نہ ہوں تقویٰ کے لحاظ سے کہ وہ بندوں کا حق بھی ماریں اور خدا کا بھی ماریں۔وہ سمجھتے ہیں بندوں کے ساتھ تھوڑی سی بد دیانتی میں کوئی حرج نہیں ،کبھی کبھی اگر حق مار بھی لیا جائے تو کیا فرق پڑتا ہے لیکن خدا کے معاملے میں وہ سیدھا ہوتے ہیں۔یہ نیکی ہو سکتا ہے ان کو بچالے اور آگے بڑھیں اور پھر بالآخر بندوں سے بھی معاملات کو ٹھیک کر لیں۔چنانچہ ایسے بعض معاملات میرے ذہن میں ہیں جہاں لوگوں سے تو مالی معاملات میں جھگڑے کئے اور اگر ممکن ہوا تو کچھ نہ کچھ حق دبایا گیا لیکن بعض لوگ اپنے چندوں میں صاف تھے۔لیکن اس کے برعکس عموماً یہ شکل بہت زیادہ دکھائی دیتی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے ساتھ مالی معاملات میں صاف نہ ہو وہ بندوں کے معاملہ میں بالکل بے پرواہ ہو جاتا ہے یا اس کی صفائی محض دکھاوے کی صفائی ہوتی ہے۔جب اس پر ابتلاء آتا ہے تو لازماً ٹھو کر کھاتا ہے۔یہ بسا اوقات دیکھنے میں آیا ہے تو چونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری توجہ اس طرف مبذول فرمائی کہ تقویٰ کے مضمون میں جڑ تک اتر و۔تقویٰ ہی تقویٰ جڑ ہے اور ہر معاملے کی تہہ تک پہنچ کر اس کی جڑ کو تلاش کرو۔اگر جڑ رہ جائے تو پھر سب کچھ رہ جاتا ہے۔تو یہ مضمون شعبه به شعبه اسی طرح یہی شکل اختیار کرتا چلا جائے گا۔