خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 145
خطبات طاہر جلد۵ 145 خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۸۶ء ہی نہیں کرے گی بلکہ اس کے بہن بھائیوں کی بھی خدمت کرے گی ، اس کے والدین کو بھی پالے گی۔والدین تک تو بہر حال فرائض میں داخل ہے لیکن بہن اور پھر بہنوں کے خاوند یا بھائی اور ان کی بیویوں کی خدمتیں ، اس مضمون کو اتنا لمبا کھینچ دیا جائے تو یہ تو ایک بڑی سخت نا قابل برداشت صورتحال بن جاتی ہے اور بعض گھروں میں ہوتی ہی یہی ہے۔مرد جو بگڑے ہوئے مقاصد رکھتے ہیں، ان میں عموماً جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا، حسن کو فضیلت ہوتی ہے اور اس کے بعد تہذیبی اقدار کو وہ فضیلت دیتے ہیں۔آج کل کے زمانہ میں جسے تہذیب کہتے ہیں اسلامی اصطلاح میں اسے بدتہذیبی کہتے ہیں مگر میں جب تہذیب کہہ رہا ہوں تو عام اصطلاح میں بات کر رہا ہوں آج کل کی۔تہذیب کی وہ اقدار جو عملاً دینی لحاظ سے نہایت ہی بدتہذیبی کی اقدار ہیں ان کی کشش میں مبتلا ہو کر بعض خاوند اس وجہ سے شادی کرتے ہیں کہ ہم اپنی بیوی کو پارٹیوں میں بلائیں گے، پارٹیوں میں لے کر جائیں گے ، گھروں میں پارٹیاں منعقد کریں گے، ان سے بے پردگیاں کروائیں گے، ملازمتوں میں ان سے ترقی حاصل کریں گے، پاپولر ہونگے، ہر دلعزیز ہونگے معاشرے میں کہ بڑی بھی دھجی بیوی ہے، بہت ہی سمارٹ جس کو کہتے ہیں ،سمارٹ بیوی لے کر آیا ہے اور خوب تعلقات رکھتی ہے ہر طرف۔اور یہ نیت لے کر عملاً وہ بالکل اسکے برعکس نتیجہ پیدا کرتے ہیں جس کے لئے قرآن کریم شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے یعنی نیک اور پاکیزہ اولاد۔جس خاوند کی نیت میں آغاز ہی میں یہ ظاہری معاشرتی اور تہذیبی حسن ہو اس کو شروع ہی سے اولا د کی نیکی سے ہاتھ دھو بیٹھنا چاہئے کیونکہ ان گھروں میں جو اولادیں پلتی ہیں وہ کئی طرح سے بیچاری بیمار ہو جاتی ہیں روحانی لحاظ سے بھی نفسیاتی لحاظ سے بھی۔ایسی اولاد کی طرف ایسے معاشرے میں بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔جو میاں بیوی مغربی تہذیب کے حسن کا شکار ہو جائیں ان کو اپنی اولاد کے تقاضے پورے کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا اور پھر اولا دمیں یہ ایک بنیادی بات پائی جاتی ہے انسانی فطرت کے لحاظ سے کہ ماں باپ کو جن رستوں پر چلتا دیکھتی ہے ان سے دو قدم آگے جانے کی کوشش کرتی ہے۔اگر نیکی کا رستہ ہو تو شاید یہ تمنا اتنی شدت سے پیدا نہ ہولیکن ماں باپ کی بدیوں میں تو عموماً اولا د دو قدم چھوڑ کر چار قدم آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے۔اس لئے جس شادی کی تمنا میں بدی داخل ہو گئی ہو وہاں اولاد چار قدم ، آٹھ قدم ، دس قدم جتنی بھی اس کو توفیق ملے گی آگے بڑھائے گی