خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد۵ 144 خطبه جمعه ۱۴ار فروری ۱۹۸۶ء۔جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا کہ جب بھی تجھے دیکھتے ہیں ایک نیا عالم دکھائی دیتا ہے اور تجھ سے واقفیت اور تعارف کا مرحلہ کبھی بھی طے نہیں ہوتا ہے۔حسن میں یہ بات نہیں ہوتی۔ہوسکتا ہے شاعر نے اپنی غلط فہمی کی بناء پر حسن کو مخاطب کر کے یہ کہا ہو لیکن امر واقعہ یہ ہے حسن میں یہ بات نہیں ہوتی۔اور پھر وقت کے ساتھ حسن ڈھلتا ہے، خصوصاً شادی کے بعد تو اس کا ڈھلنا ایک طبعی اور یقینی عمل بن جاتا ہے۔بچے پیدا ہوتے ہیں ان کی دیکھ بھال ، ذمہ داریاں ، بیماریاں،عمر کا اپنے وقت کے مطابق گزرتے چلے جانا، کوئی ٹھہرا ہی نہیں سکتا اسکو۔یہ ساری وہ باتیں ہیں جو ہر پہلو سے حسن پر اثر انداز ہو رہی ہوتی ہیں۔پس اگر حسن سے ابتدائی قرب محبت کو چمکانے کا موجب بھی بنے تو ایک لمبا عرصہ اسی حسن کے ساتھ ٹھہرنے سے اکتاہٹ بھی پیدا ہوتی ہے اور حسن کے اندر قوت کشش کم ہوتی چلی جاتی ہے دن بدن۔سیرت کے مضمون اور دین کا مضمون ایک ہی چیز ہیں اصل میں۔پس جب آنحضرت علی نے فرمایا دین کو فضیلت دو، دین کو غالب رکھو تو اس میں وہ دین بھی آجاتا ہے جسے ہم عرف عام میں دین کہتے ہیں یعنی مذہب اور عربی کا وسیع لفظ دین بھی اپنے پورے معنی دیتا ہے اور اس میں کسی کا مزاج ، اس کی سیرت ، اس کی روش، اس کے چال چلن یہ ساری باتیں داخل ہیں۔تو سیرت کو اولیت دینا اسکی بہت ہی اہمیت ہے لیکن بدقسمتی سے لوگ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور سب سے آخر پر جا کر پھر سیرت کی تلاش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی بگڑے ہوئے بہت سے مقاصد ہیں جو کسی نہ کسی جہت سے انسانی ذہن میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔بعض عورتیں بہو صرف نوکرانی کے طور پر لاتی ہیں اور جتنا غربت ہو کسی جگہ اتنا ہی زیادہ یہ نوکرانی کا تصور بیچ میں زیادہ عمل دخل کرتا ہے۔اونچے کھانے پینے والے گھرانوں میں تو یہ تصور عموماً نہیں پایا جاتا۔مغربی معاشرے میں بھی یہ تصور نہیں پایا جاتا لیکن ہمارے ہاں جہاں اقتصادی معیار کم ہیں وہاں اس کا بڑا بھاری دخل ہے۔چنانچہ بعض مائیں جہاں Joint Family System ہیں وہاں بہو لاتی ہی اس لئے ہیں کہ اس سے خوب کام لیں گی صرف خاوند کی خدمت