خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 127

خطبات طاہر جلد۵ 127 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء گز کی چھلانگ ماری ہے دوسرا اس پر بحث کرنے بیٹھتا ہے اور اس طرح پر کینہ کا وجود پیدا ہو جاتا ہے۔" یہ مثال تو بالکل چھوٹی سی ہے لیکن عملاً آپ گھروں کی لڑائیاں اور فسادات پر نظر کریں تو اسی طرح شروع ہوتے ہیں۔ایک مجلس لگی ہوئی ہے خوش گپیوں کی ، بڑے اچھے ماحول میں چائے بھی پی جارہی ہے باتیں ہو رہی ہیں۔اور انہی سے چھوٹی چھوٹی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ایک چھوٹی سی بات پر بحث اور وہاں بھی ہمیشہ تکبر ذمہ دار ہوتا ہے فساد کا۔ایک آدمی نے ایک بات کہی دعویٰ کیا دوسرے نے اسے نیچا دکھانے کے لئے اس سے بڑی بات کہی یا اس کی بات کو جھٹلایا اور رد کیا اور اس سختی کے ساتھ رد کیا کہ اس نے اپنی تحقیر محسوس کی۔خواہ بات کوئی بھی ہو، بازی گر کے تماشے کی بات ہو یا کوئی اور بڑی بات ہو یا علمی پہلو کی بحث ہو رہی ہو۔ہمیشہ فسادات تکبر اور نخوت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔یا کہنے والا تکبر کے رنگ میں بات کر رہا ہوتا ہے اپنی بڑائی دکھانے کے لئے یا سننے والا احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔تکبر کے نتیجے میں۔فرمایا: اس طرح پر کینہ کا وجود پیدا ہو جاتا ہے۔یادرکھو بغض کا جدا ہونا 66 مہدی کی علامت ہے کیا وہ علامت پوری نہ ہوگی۔“ کیسا عجیب رنگ ہے نصیحت کا فرمایا تم میری طرف منسوب ہور ہے، میری سچائی کے دلائل دیتے ہو دنیا کو اور بغض کا دور ہونا تو مہدی کی علامتوں میں سے ایک ہے، کیا تم مجھے جھٹلاؤ گے، اپنے اعمال سے، کیا اس علامت کو پوری کر کے نہیں دکھاؤ گے۔پھر فرمایا: جیسے طبی مسئلہ ہے کہ جب تک بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے مرض دفع نہیں ہوتا۔میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پیدا ہوگی۔باہمی عداوت کا سبب کیا ہے؟ بخل ہے ، رعونت ہے، خود پسندی ہے اور جذبات ہیں۔میں نے بتلایا ہے کہ میں عنقریب ایک کتاب لکھوں گا اور ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کر دوں گا جو اپنے جذبات پر قابونہیں پاسکتے اور با ہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔جو ایسے ہیں وہ یادرکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں جب تک کہ عمدہ نمونہ نہ دکھا ئیں۔میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر