خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 128

خطبات طاہر جلد۵ 128 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۸۶ء اعتراض نہیں لینا چاہتا۔ایسا شخص جو میری جماعت میں ہوکر میرے منشاء کے موافق نہ ہو وہ خشک ٹہنی ہے اس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔خشک ٹہنی دوسری سرسبز شاخ کے ساتھ رہ کر پانی تو چوستی ہے مگر وہ اس کو سر سبز نہیں کر سکتا بلکہ وہ شاخ دوسری کو بھی لے بیٹھتی ہے۔پس ڈرو، میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔چونکہ یہ سب باتیں میں کتاب میں مفصل لکھوں گا اس لئے اب میں چند عربی فقرے کہہ کر فرض ادا کرتا ہوں۔“ پھر فرمایا: ( ملفوظات جلد اول صفحه : ۳۳۶) پس یاد رکھو کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھائیوں کو دکھ دینا ٹھیک نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمیع اخلاق کے متم ہیں اور اس وقت خدا تعالیٰ نے آخری نمونہ آپ کے اخلاق کا قائم کیا ہے۔اس وقت بھی اگر وہی درندگی رہی تو پھر سخت افسوس اور کم نصیبی ہے۔پر دوسروں پر عیب نہ لگاؤ کیونکہ بعض اوقات انسان دوسرے پر عیب لگا کر خود اس میں گرفتار ہو جاتا ہے۔اگر وہ عیب اس میں نہیں لیکن اگر وہ عیب سچ مچ اس میں ہے تو اس کا معاملہ پھر خدا تعالیٰ سے ہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ: ۵۷۳) یہ ایک بار یک فرق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ہے جس کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ دوسروں پر غلط عیب نہ لگاؤ۔آپ نے فرمایا ہے دوسروں پر عیب نہ لگاؤ۔پھر آگے دو صورتیں ہیں اگر غلط عیب لگایا گیا ہے کوئی ایسی بدی بیان کی گئی ہے جو دوسرے میں نہیں ہے تو بسا اوقات اس کی سزا یہ مل سکتی ہے کہ وہ عیب تم میں ظاہر ہو جائے اور تم خود اس عیب میں مبتلا ہو جاؤ۔اگر وہ عیب اس میں تھا تب بھی عیب نہ لگاؤ پھر اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے خدا پر اس کے معاملے کو چھوڑو۔فرماتے ہیں: بہت سے آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں پر معانا پاک الزام لگا دیتے ہیں۔ان باتوں سے پر ہیز کرو۔بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاؤ اور