خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 126

خطبات طاہر جلد۵ 126 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء ایک باپ ہے جو سچ کے معاملے میں سختی کر رہا ہے بچے جھوٹے بن رہے ہیں۔ایک باپ ہے جونمازوں کے معاملے میں سختی کر رہا ہے اور بچے بے نمازی ہورہے ہیں۔ایک ماں ہے جو پردہ کے معاملے میں سختی کرتی ہے تو بیٹیاں بے پر د بن رہی ہوتی ہیں۔یہ الٹ تصویر یں کیوں بن رہی ہوتی ہیں؟ جہاں بھی تصویریں برعکس بن رہی ہوں وہاں بنیادی نقص آپ کو یہی معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں تکبر سے اور نخوت سے کام لیا گیا ہے اور نخوت اور تکبر رد عمل پیدا کرتے ہیں۔اس لئے نیکیوں کو اگر نا جائز طریق پر نافذ کرنے کی کوشش کریں گے ، سوسائٹی میں جاری کرنے کی کوشش کریں گے تو نیکیوں کی بجائے الٹ چیز پیدا ہوگی۔اسی لئے قرآن کریم نے فرمایا: وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر :) کہ وہ حق بات ہی کی نصیحت نہیں کرتے بلکہ صبر کے ساتھ حق بات کی نصیحت کرتے ہیں اور صبر اور تکبر کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔صبر تو اپنے دل پر دکھ لے کر پھر نیکی کو جاری کرنے کا نام ہے۔اس لئے اصلاحی معاشرہ میں اس بات کو خوب اچھی طرح یا درکھیں کہ جن باتوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیکی عطا فرمائی ہے اور فضیلت بخشی ہے ان باتوں میں انکساری سے کام لیں۔یہ ہے اسوه محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔اگر یہ اسوہ آپ اختیار کریں گے تو پھر انشاء اللہ آپ کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی گہرے اثرات پیدا ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اول خدا کی توحید اختیار کرو دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی۔كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ (ال عمران :۱۰۴)۔یادرکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔یا درکھو! جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔وہ مصیبت اور بلاء میں ہے اس کا انجام اچھا نہیں۔میں ایک کتاب بنانے والا ہوں اس میں ایسے تمام لوگ الگ کر دیئے جائیں گے جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی ہوتی ہے مثلا ایک شخص کہتا ہے کہ کسی بازی گر نے دس