خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 104

خطبات طاہر جلد ۵ صلى الله 104 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۸۶ء صلى علیسه آنحضرت ﷺ کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات دعا بن جایا کرتی تھی۔ تو آپ نے تو پیار اور دعا کے رنگ علوس میں فرمایا انشاء اللہ آرام ہو جائے گا ، حضرت عائشہ کی معلوم ہوتا ہے اس وقت سر درد ہٹ گئی ہو گی کیونکہ اگلی بات سے لگتا ہے کہ سردرد والا تو ایسی بات نہیں کرتا، پھر فوراً بولیں کہ آپ کو کیا ہے میں مر جاؤں گی تو آپ کوئی اور شادی کر لیں گے یعنی فکر یہ پڑ گئی کہ میرے بعد آنحضرت کا کوئی اور عورت گھر میں نہ لے آئیں ۔ آپ نے فرمایا ! عائشہ نہیں میں فوت ہو جاؤں گا اور تم زندہ رہو گی ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ساری عمر پچھتاتی رہیں اس بات کے اوپر ۔ ہمیشہ فرمایا کرتیں تھیں کہ مجھے شدید دکھ ہے کہ میں نے اس وقت یہ کیا بات کہہ دی تھی آپ جانتے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ آپ جان گئی صلى الله ا تھیں کہ جو کلمہ اس وقت آنحضرت علی عليه ۔ کے منہ سے نکل رہا تھا وہ دعا بن رہا تھا ۔ آپ کو جو بعد کی ! لمبی صلى الله علی سه تنہائی کی زندگی برداشت کرنی پڑی لمبی جدائی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی دیکھنی پڑی اس وقت آپ کو پتہ لگا کہ آپ کے بغیر جینا کیا جینا ہوا کرتا ہے۔ اس وقت آپ پچھتاتی تھیں کہ کاش میں نے یہ نہ کہا ہوتا اور میں ہی آپ کی زندگی میں فوت ہو جاتی ۔ یہ تھا معاشرہ جو اس وقت وجود میں آ رہا تھا۔ ایک چھوٹی عمر کی لڑکی ہے، ایک بہت بڑی عمر کے مرد سے شادی ہوتی ہے لیکن اتنا حسین سلوک تھا ، اس قدر ترحم تھا ، اس قدر لطف تھا، ایسی شفقت تھی آپ کی طبیعت میں کہ وہ چھوٹی سی عمر کی لڑکی اس قدر محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے کہ شاید ہی دنیا میں ایسی مثال ہو کہ کسی بیوی کو اپنے خاوند سے ایسی محبت ہوئی ہو۔ صلى الله عروسه طعن و تشنیع کا ذکر چلا تھا، بہت سے ہمارے گھر تباہ ہوئے ہیں بے وجہ طعن و تشنیع کی وجہ سے۔ جیسا کہ میں نے بعض مثالیں پیش کیں تھیں ۔ طعن و تشنیع کو آنحضرت مال بالکل پسند نہیں فرماتے تھے اور آپ کے لئے تو سوال ہی نہیں تھا کہ کسی قسم کے طعنے دیں کسی کو ۔ یہ تو حضور ا کرم کی ذات کیا آپ کے صحابہ کی ذات سے بھی بہت ہی گری ہوئی بات تھی ۔ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ دشمن طعنے دیا کرتے تھے، کافر مسلمانوں کو طعنہ دیا کرتے تھے۔ کہیں قرآن کریم میں یہ ذکر املتا کہ مسلمان کافروں کو طعنے دیتے تھے اس لئے طعن و تشنیع سے اجتناب بہت ہی ضروری ہے۔ آنحضرت ا تو اتنا نا پسند فرماتے تھے کہ ایک موقع پر فرمایا کہ طعنہ زنی کرنے والا ، دوسرے پر لعنت کرنے والا بخش کلامی کرنے والا ، یا وہ گو اور زبان دراز ایسا شخص مومن نہیں ہو سکتا اور جو مرضی نہیں