خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 103
خطبات طاہر جلد۵ 103 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء گواہی کسی کے مصروف الاوقات ہونے کی نہیں ہو سکتی اور آپ روز مرہ کے گھر کے کاموں میں عورتوں کا ہاتھ بٹاتے تھے۔کیا اس سے بہتر کام کرنے کا موقع آپ کے پاس نہیں تھا، یقینا تھا بے انتہا کام تھے آپ کو۔ساری دنیا کی اصلاح کا بیڑا اٹھانا اور پھر قیامت تک کے لئے اور پھر ایسے دشمنوں میں گھر اہونا ادنیٰ سے ادنیٰ خادم کی پرواہ اور اس کے دکھ دور کرنے کی فکر اور دعائیں صرف ان لوگوں ا کے لئے نہیں جو زندہ ہیں۔نسلاً بعد نسل آنے والوں کے لئے بھی دعائیں اور فوت شدگان کے لئے بھی دعائیں اور دعائیں وہ جن کا آغاز انسانیت سے بھی تعلق ہے اور انجام انسانیت سے بھی تعلق ہے۔بے شمار مسائل جن کا سامنا کرنا پڑتا تھا، بے شمار تعلیمات تھیں ہر زندگی کی دلچسپی کے موضوع پر آنحضرت ﷺ نے تعلیم دینی تھی اور پھر اس تعلیم کی حکمت سمجھانی تھی۔کتنے بڑے کام تھے! ایک ایسا مصروف الاوقات گھر میں بیٹھا اپنی جوتی کو بھی پیوند لگا رہا ہے ، اپنے پھٹے ہوئے کپڑے بھی سی رہا ہے، کھانے پکانے میں چیزیں پکڑا رہا ہے اپنی بیوی کو اور اس کی مدد کر رہا ہے،ٹوٹے ہوئے برتن جوڑ رہا ہے کہ کسی کی دل شکنی نہ ہو جائے کسی دوسری بیوی کی۔حیرت کی بات ہے کہ یہ نمونہ کیوں نہیں پکڑتے لوگ اپنے گھروں میں۔اس قسم کے مرد اگر آج کے معاشرے میں پیدا ہوں تو بہت سی خرابیاں جو بعد میں دوسروں کی طرف سے رونما ہونے لگتی ہیں۔بیویوں کی طرف سے یا بچوں کی طرف سے یا دوسرے ملنے جلنے والوں یا گھر والوں کی طرف سے ان کا آغاز ہی نہ ہو، بنے ہی نہ بیماریاں شروع میں۔مرد کو خدا نے قوام بنایا ہے اگر مرد اچھا نمونہ گھر میں دکھائے اور اس نمونے کو جاری کرے تو لازماً اس کے نتیجہ میں بہت ہی زیادہ حسین معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ کی ایک روایت بیماری کے متعلق بھی ملتی ہے۔آپ ایک دفعہ بیمار ہوئیں۔شدید سر میں درد تھی۔آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو آپ نے شکایت کی کہ یا رسول اللہ میرے سر میں تو سخت سردرد ہے ، آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں انشاء اللہ آرام ہو جائے گا (مسنداحمد کتاب باقی مسند الانصار حدیث نمبر ۲۴۶۵۸) سے پیار سے اس بات کا اظہار کیا۔وہ زمانہ ایسا تو نہیں تھا کہ بنی بنائیاں دوائیاں گھر میں موجود ہوں کہ فوراً ایک ٹکیہ کھلائی اور سر درد دور ہوگئی لیکن آنحضرت ﷺ کا یہ فقرہ ہی دراصل شفا تھا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس کے اگلے حصہ سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ