خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 105

خطبات طاہر جلد ۵ 105 خطبہ جمعہ ۳۱ / جنوری ۱۹۸۶ء ہو۔(ترمذی کتاب البر والصله حدیث نمبر : ۱۹۰۰ ) یہ توقعات تھیں آنحضرت علﷺ کی اپنے ایمان لانے والوں پر اور آج کل ہر گھر ان باتوں کی آماجگاہ بنا ہوتا ہے۔اچھے گھروں میں کم طعنہ زنی ہے۔برے گھروں میں بہت زیادہ ہے۔غیروں میں بہت ہی شدت سے پائی جاتی ہے لیکن احمدی گھروں میں بھی موجود ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ آج احمدی گھر طعنہ زنی سے پاک ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کے نتیجہ میں طعنہ زنی کی جاتی ہے جس سے سارا معاشرہ تلخ ہوجاتا ہے۔جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ بات بظا ہر چھوٹی ہے لیکن اگر سمندر میں بھی ڈالی جاتی تو اس پر غالب آجاتی۔یہ بات محض ایک بلاغت کا اظہار نہیں ہے ، امر واقعہ یہ ہے کہ معاشرہ کے بھی سمندر ہوا کرتے ہیں اور معاشروں کے سمندر کا رنگ بدلنے میں سب سے بڑا کام طعنہ کرتا ہے۔معاشرہ کے سمندر کا مزاج کڑوا کرنے میں سب سے زیادہ ذمہ دار طعنہ ہوا کرتا ہے۔بعض قسم کے جو طعنے عام ہمارے گھروں میں رواج پکڑ جاتے ہیں ان میں سے بعضوں کو قد چھوٹے کا طعنہ، بیماری کا طعنہ، کوئی ذات پات کا طعنہ، یہ طعنہ کہ اپنے گھر سے تم لے کے کیا آئی تھی ؟ یا یہ طعنہ کہ اپنے گھر میں تو میں نغم و ناز میں پلا کرتی تھی، میں کس اجاڑ گھر میں آگئی یہاں تو یہ بھی نہیں ملتا اور وہ بھی نہیں ملتا۔یہ وہ طعنے ہیں جو روز مرہ کی زندگی میں داخل ہوئے ہوئے ہیں۔الا ماشاء اللہ اکثر گھروں میں کسی نہ کسی شکل میں یہ طعنے پائے جاتے ہیں۔جہیز کا طعنہ یا بری کا طعنہ یا خدا تعالیٰ کی طرف سے بعض ابتلاء ہیں ان کے اوپر بھی طعنہ زنی سے باز نہ آنا۔مثلاً اولا د کا طعنہ دیا جاتا ہے عورتوں کو کہ اس کے تو اولاد پیدا نہیں ہوتی اور زندگی تلخ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ بعض دفعہ تو بیچاری عورتوں کی زندگی بیٹا نہ ہونے کے اوپر طعنوں کے ذریعہ تلخ کر دی جاتی ہے۔چھلنی کر دیا جاتا ہے ان کو۔بعض مرد ایسے ہوتے ہیں حیرت ہوتی ہے ان کے اوپر ان کو کس طرح پتہ چلا کہ قصور بیوی کا ہے، ہوسکتا ہے مرد کا قصور ہو کہ بیٹی پیدا ہوتی ہے اور بیٹا پیدا نہیں ہوتا۔لیکن مجھے علم ہے چونکہ ساری دنیا کی جماعت مجھ سے تو کچھ بھی نہیں چھپاتی۔سارے حالات جو گھروں میں گزرتے ہیں وہ مجھے لکھتے رہتے ہیں بے تکلف۔جس طرح اپنے ماں باپ کو انسان بات لکھتا ہے اس طرح ساری دنیا میں جو کچھ گزر رہی ہے اس کی تصویر میرے سامنے روز بنتی