خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 98 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 98

خطبات طاہر جلد۵ 98 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء تمہاری ناراضگی کے وقت میں داخل ہوا تھا اور ناراض ہو کر چلا گیا تھا اب صلح کے ماحول میں تمہیں دیکھ رہا ہوں اس لئے صلح کے ماحول میں بھی شامل کر لو مجھے اپنے ساتھ۔کیسے سادہ سادہ پیارے پیارے واقعات ہیں لیکن بڑی گہرائی ہے ان میں۔دیکھنے میں بظاہر سادہ ہیں لیکن اگر آپ ان کے اندر غوطہ لگائیں، غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت ہی اعلیٰ درجہ کے خلق ان کے پس منظر میں ہیں۔ان اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے بغیر ایسی تصویر میں بن نہیں سکتیں۔روزمرہ کی زندگی میں عورتیں بیمار بھی ہو جاتی ہیں بعض دفعہ کہتی ہیں کہ مجھے سر درد ہو رہی ہے مرد آگے سے جواب دیتا ہے کہ اچھا جاؤ جہنم میں یا اور سخی کر دیتا ہے یا غیر معمولی نرمی اختیار کر دیتا ہے اور بیماری کو غیر معمولی اہمیت دے دیتا ہے، ایسا بھی ہوتا ہے۔اور دونوں صورتوں میں معاشرہ خراب ہوتا ہے۔خاوند اگر عورت کی بیماری پر توجہ نہ دے اور مناسب حسن سلوک نہ کرے تب بھی اور ضرورت سے زیادہ بڑھائے تب بھی معاشرہ ضرور تباہ ہو جاتا ہے۔بعض گھروں میں آپ نے دیکھا ہوگا پرانے زمانے میں تو ایسے گھر بہت ملا کرتے تھے کہ بعض عورتوں کو بیمار رہنے کی عادت پڑ جاتی تھی صرف اس لئے کہ وہ سمجھتی تھیں کہ خاوند زیادہ دل کو لگاتا ہے اور زیادہ اہمیت دیتا ہے، ان کا شیوہ ہی بیماری بن جاتا تھا اور بعض گھروں میں خاوند کی موجودگی میں تو لازماً عورت بیمار بنی رہتی تھی جب خاوند چلا جاتا تھا تو پھر اٹھ کے دوڑنے پھرنے لگ جایا کرتی تھی۔ساری زندگی خاوند بیچارے کی گزر جاتی تھی اپنی بیوی کی بیماریوں کے نخرے اٹھاتے ہوئے۔اسکے برعکس بعض عورتوں کی بیماری کی خاوند کو پرواہ نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ موت کے کنارے تک پہنچ جایا کرتی تھی۔بیماری کی حالت میں ان سے شدت سے کام لینے، بیماری کی حالت میں ان پر بوجھ ڈالنے ، بیماری کی حالت میں مہمان بلانے اور باہر کے معاشرہ میں اپنا چہرہ خوبصورت دکھانا اور گھر کے اندر ایسی بدصورتی کہ بیمار عورت پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔یہ امر واقعہ ہے بعض عورتیں میرے علم میں ہیں کہ پیدائش کے بعد چالیس دن ابھی پورے نہیں گزرے، وضع حمل کے بعد اور جسم کچی حالت میں ہے۔اس حالت میں ان سے بارشوں میں باہر چار پائیاں اٹھوائی جانی، مہمان آئیں تو ان کی خدمت کروانا، اپنی بہنوں اور اپنے دوسرے عزیزوں کے کپڑے دھلوانا ، اس طرح چکی میں پیسی جانے والی بعض عورتیں ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح کسی انسان کو یہ حوصلہ پڑتا ہے کہ اس قسم کے مظالم کرے تو بیماریوں کو نظر انداز کر دینا یا بیماریوں