خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 99
خطبات طاہر جلد۵ 99 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء کو غیر معمولی اہمیت دینا یہ دونوں باتیں خرابی کا موجب بنتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کے حسن خلق کی اگر ایک لفظ میں تعریف کی جائے تو وہ توازن ہے۔اتنا حسین تو ازن تھا آپ کی ذات میں کہ ہر چیز اعتدال پر تھی۔غیر معمولی محبت بھی نہیں تھی اور محبت جتنی ہونی چاہئے اس سے ایک ذرہ بھی کم نہیں تھی۔بنیادی اصولی باتوں میں آنحضور ﷺے محبت کی قطعاً پرواہ نہیں کرتے تھے اور جہاں اپنی ذات کی تکلیف ہو وہاں بہت زیادہ برداشت کر لیا کرتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک واقعہ ہے کہ ایک موقع پر آپ نے آپ کی ایک اور زوجہ محترمہ کے متعلق جن کا قد چھوٹا تھا طعن کے طور پر اپنی چھنگی دکھائی کہ وہ آپ کی بیگم جن کا قدا تنا ہے۔آنحضرت ﷺ کو حضرت عائشہ صدیقہ سے بہت محبت تھی لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جہاں اصول تھے جہاں سچائیاں سامنے آتیں تھیں، وہاں محبتیں یوں قربان کر دیا کرتے تھے جیسے محبت کی اہمیت ہی کو ئی نہیں۔اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر اس کو دریا میں ملا دیا جائے تو وہ دریا پر بھی غالب آجائے یعنی اس کی کڑواہٹ دریا کو بھی کڑوا کر دے۔اس کا ایک ترجمہ دوسری روایت میں سمندر کا بھی بنتا ہے اگر سمندر میں یہ کلمہ ڈالا جائے تو سمندر کا مزاج بدل دے ، اس کا رنگ بدل دے، اس کا ذائقہ بدل دے یعنی اس کو بھی کڑوا کر دے جو پہلے ہی کڑوا ہوتا ہے۔(ابوداؤد کتاب الادب حدیث نمبر :۴۲۳۲) ایک اور موقع پر حضرت عائشہ صدیقہ نے ایک ایسی بیوی کا بھیجا ہوا سالن گرا دیا جن کی باری نہیں تھی ، حضرت عائشہ صدیقہ کی باری تھی کسی اور زوجہ جن کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا آنحضرت علی بہت ہی پسند فرمایا کرتے تھے انہوں نے محبت میں وہ کھانا بھیج دیا حضرت عائشہ کی باری کے دن اور حضرت عائشہ نے ہاتھ مار کے وہ برتن گرا دیا اور برتن ٹوٹ گیا۔آنحضرت ﷺ کا عجیب سلوک ہے۔حضرت عائشہ کے اس فعل کے اوپر جو آپ کا رد عمل ظاہر ہوتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیسی متوازن طبیعت تھی۔اس صورت میں ناراض نہیں ہونا چاہتے تھے کہ جس کے نتیجہ میں گھر بھڑک اٹھے اور شکوے پیدا ہو جائیں دونوں طرف سے۔اس صورت میں دبانا بھی نہیں چاہتے تھے اپنے جذبات کو کہ حضرت عائشہ سمجھیں کہ یہ بات بہت اچھی ہوگئی ٹھیک ہے، دوسری سوکنوں کے متعلق میں جو کچھ سلوک کروں گی آنحضرت ملے اسے برداشت کر لیا کریں گے اور یہ بھی جانتے تھے آنحضرت مے