خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 97

خطبات طاہر جلد۵ 97 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء مطہرات سے بارہا ایسی باتیں بھی سرزد ہوئیں جن کے نتیجہ میں شدید ناراضگی کا مورد بھی بنیں بعض اوقات ایسی باتیں بھی سرزد ہوئیں جن کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کی بجائے کوئی اور مرد ہوتا تو گھر میں کئی قسم کے فتنے پھوٹ پڑتے کئی قسم کی ایسی باتیں چل نکلتی جن کے نتیجہ میں آپس میں میاں بیوی کے طور پر رہنے کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا تھا۔لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ نے نہایت ہی صبر اور حوصلے کے ساتھ برداشت کیا یہاں تک کہ آنحضرت علی نے اپنی بیویوں کو والدین کی ناراضگیوں اور ان کی مار سے بچایا۔یعنی بجائے اس کے کہ آپ مار میں جلدی کریں۔میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے ساری زندگی میں ایک مرتبہ بھی آنحضرت ﷺ نے کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا، ج مطہرات میں سے کسی کو ایک ادنی سی ضرب بھی نہیں لگائی۔صرف یہی نہیں بلکہ والدین سے ازواج بھی بچایا۔چنانچہ ایک موقع پر آنحضرت ﷺ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی کچھ نگی آپس میں ہوئی اور حضرت عائشہ صدیقہ بلند آواز سے آنحضور علیہ کے مقابل پر بولنے لگیں۔اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر میں داخل ہوئے اور برداشت نہیں ہوا۔اتنی شدید محبت تھی آنحضرت ﷺ سے کہ آپ کی موجودگی میں حضرت عائشہ پر ہاتھ اٹھانے لگے۔آنحضرت ﷺ نے پکڑ کر ہاتھ روکا اور فرمایا کہ نہیں ابوبکر یہ نہیں ہوگا۔حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق گھر سے باہر چلے گئے اور پھر کافی دن تک اس گھر میں دوبارہ نہیں آئے۔حضرت عائشہ صدیقہ سے پھر بھی ناراض رہے۔ظاہر بات ہے کہ اپنی بیٹی سے ناراضگی کا موجب ضرور کچھ ایسی بات ہوئی ہوگی جس سے انہوں نے اندازہ لگایا کہ آنحضرت ﷺ کی گویا گستاخی ہو رہی ہے۔بہر حال لمبا عرصہ انقطاع کیا اور ایک دفعہ گھر میں دوبارہ داخل ہوئے تو آنحضرت ملے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت ہی محبت کی حالت میں گفتگو فرمارہے تھے ایک دوسرے سے ، بہت پیار کا ماحول تھا تو حضرت ابوبکر صدیق کو وہ واقعہ یا تھا اس لئے جس طرح نکلے تھے اس سے احسن رنگ میں داخل ہوئے اور فرمایا کہ اچھا جس طرح مجھے اپنی ناراضگی میں تم لوگوں نے شریک کر لیا تھا اب مجھے اپنی صلح میں بھی تو شریک کرلو۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب حدیث نمبر : ۴۳۴۷)