خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 589
خطبات طاہر جلدم 589 خطبہ جمعہ ٫۵ جولائی ۱۹۸۵ء یہ اپنی عبادت گاہوں کو مسجد نہ کہیں کیونکہ مسجد کا لفظ اس سے پہلے جو وحی نازل ہوئی تھی اس میں اترا تھا اور وہ ہماری وحی ہے ان کا کوئی حق نہیں۔کہتے ہیں کیسے ظالم ہیں احمدی اشتعال انگیزیوں سے باز ہی نہیں آرہے اپنی مسجدوں کا رخ ہمارے قبلہ کی طرف کر بیٹھے ہیں ہم تو رخ موڑ کے چھوڑیں گے ورنہ قتل عام کر دیں گے۔کہتے ہیں اس سے بھی بڑی اشتعال انگیزی کیا ہوسکتی ہے کہ جو ہمارا قبلہ تھا اس کی طرف منہ کر لیا ہے۔اب اس واقعہ کو ہی آپ تاریخ اسلام کے اولین دور کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھ لیں کیسا کھل جاتا ہے کہ دین کس کا ہے۔اندھا بھی ٹول کر دیکھنا چاہے اس کو بھی محسوس ہو جائے گا کہ کیا واقعہ رونما ہو گیا ہے ان کو پتہ ہی نہیں چلا۔اول دور محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جھگڑا یہ چل رہا تھا کہ اچھا بھلا ہمارا قبلہ پکڑا ہوا تھا ہمارا قبلہ کیوں چھوڑ بیٹھے ہو؟ اور اب جھگڑا یہ چل پڑا ہے کہ ہمارا قبلہ کیوں پکڑا ہوا ہے، ہم الٹا کے چھوڑیں گے۔تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہر دور میں نئی حماقتیں جنم لیتی ہیں جہاں نبوت ارتقاء پذیر تھی اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر شریعت کامل ہو گئی وہاں آپ کے زمانے میں بدیوں کی تاریخ بھی مکمل ہو گئی۔اب بدیوں میں بھی ایسے ایسے حیرت انگیز اضافے ہوئے ہیں کہ پہلی قوموں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس قسم کی بدیاں بھی ہوسکتی ہیں اور وہ میں بتارہا ہوں کہ یہ زمانہ مصطفوی ہی ہے۔آج ہم وہ خوش نصیب ہیں جو اس زمانہ مصطفوی کو پاگئے ہیں۔ہماری ذات میں وہ تصویریں بن رہی ہیں جو محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کی تصویر میں مقدر تھیں اور قرآن کریم میں بطور پیشگوئی کے درج تھیں۔اگر یہ واقعہ درست نہیں ہے تو پرانے واقعات نکال کر دکھاؤ کہ کب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اولین دشمن آپ پر یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ تمہیں کوئی حق نہیں ہے اہل کتاب کی باتیں اختیار کرنے کا۔یہاں تک جہالت میں بڑھ گئے ہیں کہ مقدمے درج کئے گئے کہ احمدیوں کے نام مسلمانوں جیسے نام کیوں رکھے گئے ہیں ، یہ نام بدلا دیئے جائیں اور تاریخ کو زیادہ مکمل اور محفوظ کرنے کے لئے تا کہ خدا تعالیٰ نے جہاں جہاں نقوش پر سیاہیاں پھیری ہیں وہ آئندہ آنے والوں کیلئے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائیں کوئی مثانہ سکے۔اسمبلیوں میں یہ بات ریکارڈ ہو گئی ہے۔چنانچہ ابھی چند دن پہلے پنجاب اسمبلی میں یہ ریزولیشن پیش کیا گیا ہے کہ ربوہ کا نام تبدیل کر دیا جائے کیونکہ لفظ ربوہ قرآن کریم میں آتا ہے اور ہم یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ ایسا مقدس لفظ جو قر آن کریم میں