خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 588
خطبات طاہر جلد۴ 588 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۸۵ء تذکرہ ملتا ہے ویسے بھی متعدد احادیث میں بکثرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس سنت کا ذکر ملتا ہے کہ جب تک قرآن کریم کی کوئی آیت کسی حکم کے بارے میں نازل نہ ہو آپ تو رات کے احکام پر عمل فرمایا کرتے تھے عن ابن عباس قال كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يحب موافقة اهل الكتاب فى ما لم يؤ مرفيه ( صحیح بخاری کتاب اللباس حدیث نمبر ۵۴۶۲) که حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل کتاب کے دستور کے مطابق عمل فرمایا کرتے تھے جب تک قرآن کریم کی کوئی آیت اس معاملے میں واضح طور پر نازل نہ ہو جائے ، آپ کو حکم نہ دے دیا جائے۔اور تاریخ پر آپ نظر ڈال کے دیکھیں تلاش کر لیں ہر طرف سے، مخالفین کا لٹریچر اور ان کی تاریخ بھی دیکھ لیں ، موافقین کا لٹریچر اور ان کی تاریخ بھی دیکھ لیں ایک اعتراض حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں آپ کے دشمن اہل کتاب نے یہ نہیں اٹھایا کہ تم ہماری کتابوں کے مطابق کیوں عمل کر رہے ہو، ہمیں غصہ آتا ہے دھوکہ دے رہے ہو اور ہم تمہیں اپنی کتابوں کے مطابق عمل نہیں کرنے دیں گے نظر دوڑائیے ، دیکھئے کوئی اشارۃ بھی آپ کو ایسا اعتراض نظر نہیں آئے گا۔پھر قرآن کریم یہ کیا فرما رہا ہے هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّا إِلَّا أَنْ أُمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا تم عجیب بے قوف قوم ہو کہ کچھ تو لوگ برا مناتے ہیں اور ہمیشہ سے مناتے آئے ہیں یعنی نئی وحی کے اوپر برا مناتے ہیں ، اللہ پر ایمان لانے کے اوپر ہمیشہ جھگڑے چلے ہیں لیکن تم نے ایک نیا اضافہ کر دیا ہے، حماقتوں کا نیا باب کھول دیا ہے کہ یہ بھی برا منارہے ہو کہ تم پر جو وحی نازل ہوئی تھی جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہے اس کو کیوں مان رہے ہیں، اس کو کیوں نہیں جھٹلاتے ، اس کی تکذیب کیوں نہیں کرتے۔پس یہ واقعہ اگر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اولین دور میں نہیں ہوا تو ناممکن تھا کہ قیامت آتی پیشتر اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے زمانہ میں یہ واقعہ رونما نہ ہو جاتا اور یہ ہو چکا ہے اور آج اس تفصیل کے ساتھ ظاہر ہو رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کس طرح نقطہ بنقطہ ، منہ بہ منہ یہ وہ تصویر بنار ہے ہیں جو قرآن کریم پیش فرما رہا ہے۔کہتے ہیں کہ احمدی کلمہ توحید نہ پڑھے وَمَا اُنْزِلَ اِلَيْنَا ہ ہم پر اتاری گئی ، ان سے پہلے اترا ہے مِن قَبْلُ اترا ہے اور ان کا کلمہ پڑھنے کا کوئی حق نہیں ہمیں اس سے غصہ آتا ہے۔کہتے ہیں