خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 590 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 590

خطبات طاہر جلدم 590 خطبه جمعه ٫۵ جولائی ۱۹۸۵ء لکھا ہو وہ یہ نا پاک لوگ اختیار کر لیں۔یعنی کلیہ پرانی وحی کو ہم ان سے کاٹ کر اس طرح الگ پھینک دیں گے کہ ایک شعشہ ایک نقطہ بھی قرآن کریم کا ان کو اپنانے نہیں دیں گے۔یہ ہے نیا باب جو مذہب کے نام پر نفرتوں کی تاریخ میں کھولا گیا ہے اور اس کے متعلق قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے بطور پیشگوئی میں کہتا ہوں اس کا ذکر فرمایا تھا کیونکہ اگر یہ بطور پیشگوئی نہ ہوتا تو تاریخ میں اس کا ذکر ملنا چاہئے تھا اور جہالت کی حد ہے کہ یہ نہیں دیکھتے کہ قرآن کریم میں تو ابلیس کا نام بھی ہے، شیطان بھی لکھا ہوا ہے اور ابو لہب کا بھی ذکر ہے ، فرعون کا بھی ذکر بیتو اس زمانے کے ابولہب اور اس زمانے کے فرائین پھر اپنے یہ نام بھی کاٹ لیں ہر قسم کے اسماء قرآن کریم میں موجود ہیں کُلُّھا ہر قسم کے اسماء ہیں۔اور قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس پر کوئی کہہ نہیں سکتا کہ اس کتاب کو ہم کسی اور پر مطلق نہیں ہونے دیں گے۔یہ تو اطلاق پاکے رہے گی چاہو بھی تو تم اس کو چھین کر اپنی جھولی میں سمیٹ نہیں سکتے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رحمتہ للعالمین بھی تھے اور تمام جہانوں کے لئے نذیر بھی تھے نذیر" للعالمین بھی تھے اور بشير للعالمین بھی تھے اس لئے قرآن کریم میں تو ہر قوم کا ذکر مل رہا ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ تمہارا بھی ذکر مل رہا ہے اور بڑی تفصیل سے مل رہا ہے ان ذکروں کو کس طرح نوچ لو گے۔قرآن کریم میں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام آتا ہے اور بڑی محبت کے ساتھ یہ نام مذکور ہے بڑی پاکیزگی کے ساتھ یہ نام مذکور ہے اور آج ایرا غیرا ہر قسم کے بدکار لوگ بھی ایسے ملتے ہیں جنہوں نے یہ نام رکھا ہوا ہے اور تعصب کی آنکھ سے دیکھنے والوں کو یہ نظر ہی نہیں آرہا۔ایسے ایسے ذلیل لوگ ہیں ، ایسے ایسے گندے لوگ ہیں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے بھی ان کو شرم اور حیا آنی چاہئے کہ ہم حضور ا کرم کی طرف منسوب ہو کر آپ کی ہتک کا موجب بن رہے ہیں۔اور ان کو یہ محمد کہتے ہیں۔ان کے خلاف گواہیاں دی جاتی ہیں عدالتوں میں قرآن اٹھا اٹھا کہ یہ محمد چور ہے یہ ایسا ہے یہ ایسا ہے ان کو کوئی حیا نہیں آتی۔وہ نام نہیں نوچتے۔یہ دلیل جودی جا رہی ہے میری طرف سے اس کا اسی آیت میں ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان باتوں میں اعتراض تو کر رہے وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فَسِقُوْنَ تم یہ نہیں دیکھتے کہ تم میں سے اکثر فاسق لوگ ہیں اور تم اس بات کے اہل نہیں ہو کہ پہلی کتابوں کے اوپر تم عمل کر کے دکھاؤ اور ان کی طرف منسوب