خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 183
خطبات طاہر جلد۴ 183 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء ایک کشمیر کمیٹی ، دوسری احرار، تیسری جماعت نہ کسی نے بنائی نہ بن سکی۔احرار پر مجھے اعتبار نہ تھا اور اب دنیا تسلیم کرتی ہے کہ کشمیر کے یتامی ، مظلومین اور بیواؤں کے نام سے روپیہ وصول کر کے احرار شیر مادر کی طرح ہضم کر گئے ( یہ وہی احرار ہیں جو آج پاکستان پر مسلط کئے جا رہے ہیں ) ان میں سے ایک لیڈر بھی ایسا نہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ اس جرم کا مرتکب نہ ہوا ہو۔کشمیر کمیٹی نے انہیں دعوت اتحاد و عمل دی مگر اس شرط پر کہ کثرت رائے سے کام ہو اور حساب با قاعدہ رکھا جائے۔انہوں نے دونوں اصولوں کو ماننے سے انکار کر دیا۔لہذا میرے لئے سوائے از میں چارہ نہ تھا کہ میں کشمیر کمیٹی کا ساتھ دیتا اور میں بانگ دہل کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب صدر کشمیر کمیٹی نے تندہی ، محنت ، ہمت ، جانفشانی اور بڑے جوش سے کام کیا اور اپنا روپیہ بھی خرچ کیا اور اس کی وجہ سے میں ان کی عزت کرتا ہوں“۔(صفحہ :۴۲) مولا نا عبدالمجید سالک مدیر انقلاب اپنی کتاب ”سرگزشت میں لکھتے ہیں کہ: ” جب احرار نے احمدیوں کے خلاف بلاضرورت ہنگامہ آرائی شروع کر دی اور کشمیر کی تحریک میں متخالف عناصر کی ہم مقصدی و ہم کاری کی وجہ سے جو قوت پیدا ہوئی تھی اس میں رخنے پڑ گئے تو مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور ڈاکٹر ا قبال اس کے صدر مقرر ہوئے کمیٹی کے بعض ممبروں اور کارکنوں نے احمدیوں کی مخالفت محض اس لئے شروع کر دی کہ وہ احمدی ہیں۔یہ صورت حال مقاصد کشمیر کے اعتبار سے سخت 66 نقصان دہ تھی۔“ (سرگزشت صفحه: ۳۳۸) اب سنئے کہ اس وقت ہندو پریس کیا لکھ رہا تھا اور ہندوؤں کو مسلمانوں کی کس جماعت سے خطرہ نظر آرہا تھا اور ان کے نزدیک کون تھا جو مسلمانان کشمیر کے لئے بے قرار ہو کر میدانِ عمل میں کو د پڑا تھا۔اس بارے میں اخبار ” ملاپ یکم اکتو بر ۱۹۳۱ء صفحہ ۵ پر لکھتا ہے: " مرزا قادیانی نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی اس غرض سے قائم کی ہے تا کہ