خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 182

خطبات طاہر جلدم 182 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء یہ آواز اُٹھتے ہی ہر طرف سے تائیدی آوازیں بلند ہونے لگیں اور بالا تفاق حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو اس کا نفرنس کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ڈاکٹر علامہ اقبال نے فرمایا: حضرت صاحب! جب تک آپ اس کام کو اپنے ہاتھ میں صدر کی حیثیت سے نہ لیں گے یہ کام نہیں ہوگا“ (رسالہ لاہور ۵ راپریل ۱۹۶۵ء صفحہ: ۱۲ کالم۲) یہ تو ایک لمبی داستان ہے کہ جماعت احمدیہ نے مسلمانان ہند کے مفادات کے تحفظ کے لئے کتنی عظیم الشان قربانیاں دی ہیں۔کشمیر میں ہر طرف، ہر گل بوٹے میں اس کی یادیں بکھری پڑی ہیں۔جماعت کے بڑے بڑے عالم کیا اور ان پڑھ کیا ، امیر کیا اور غریب کیا سبھی اپنے خرچ پر وہاں جاتے تھے اور مسلمانوں کی بے انتہا خدمت کرتے تھے اور ان پر کوئی بوجھ نہیں بنتے تھے۔لٹریچر تقسیم کرتے اور کشمیر کے اس وقت کے راجہ کے مظالم کا شکار ہوتے تھے اور قید کئے جاتے۔پھر وکلاء کے قافلے وقف کر کے جاتے اور ان مسلمان بھائیوں کی خاطر مقدمے لڑتے تھے جنہیں سزائیں ملتی تھیں۔پس یہ ایک بہت بڑی داستان ہے اور سینکڑوں صفحات کی کتا ہیں اس مضمون پر لکھی گئی ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ تاریخ کشمیر کا ذکر اور جماعت احمدیہ کی عظیم الشان خدمات کے بغیر وہ تاریخ تاریخ کہلا سکے۔اس وقت میں یاد دہانی کے طور پر آپ کے سامنے اس وقت کے بعض مسلمان اخبارات اور رسائل کے دو تین اقتباس پیش کرتا ہوں۔اخبار ”سیاست“ کے مدیر مولانا سید حبیب صاحب اپنی کتاب ”تحریک قادیان میں لکھتے ہیں: مظلومین کشمیر کی امداد کے لئے صرف دو جماعتیں پیدا ہوئیں۔“ سید حبیب کی اس کتاب کے نام سے ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ مخالفانہ کتاب ہے لیکن اس زمانہ میں مخالفوں میں بھی کچھ نہ کچھ خدا کا خوف پایا جاتا تھا اور بسا اوقات حق تسلیم کرنے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے۔مدیر موصوف یہ وضاحت کر رہے ہیں کہ یہ لوگ آخر کیوں جماعت احمدیہ کے ساتھ شامل ہوئے اور اس تحریک میں حصہ لیا جس کی سربراہی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کر رہے تھے۔وہ لکھتے ہیں کہ: مظلومین کشمیر کی امداد کے لئے صرف دو جماعتیں پیدا ہوئیں۔