خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 986
خطبات طاہر جلدم 986 خطبه جمعه ۱۳ / دسمبر ۱۹۸۵ء معانی پر اطلاق پاتا ہے۔مثلاً صفات کے لحاظ سے عظیم وہ شخص ہو گا جس کے اندر صفات بہت بڑائی رکھتی ہوں۔ان میں حوصلہ زیادہ ہو ، ان میں مرتبہ زیادہ ہو اور روحانی لحاظ سے ایک عظیم وہ شخص ہوگا جس کی روحانیت کا تصور آپ نہیں کر سکتے۔اسی طرح عظیم کا لفظ صفات حسنہ اور شخصیتوں کے او پر بولا جاتا ہے اور طاقتوں کے اوپر بھی بولا جاتا ہے۔عظیم سلطنت سے مراد صرف یہی نہیں کہ اس سلطنت کا پھیلاؤ زیادہ ہے بلکہ اس کا مرتبہ زیادہ ہے، اس کا رعب زیادہ ہے۔عظیم شخص بھی اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو ایک سے زیادہ جہتیں اپنے اندر رکھتا ہو ، صرف ایک جہت میں ترقی نہ کرتا ہو یا ایک جہت میں اس نے بڑائی حاصل نہ کی ہو بلکہ ایک سے زیادہ جہتوں میں اس نے بڑائی حاصل کر لی ہو۔ہر دفعہ جب عظیم کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس میں مقابلے کا معنی کوئی نہیں ہوتا جو علو میں پایا جاتا ہے۔لیکن رعب کا معنی عظمت کا ایک لازمی حصہ ہے۔جب آپ کسی شخص کے مقابل پر کسی پہلو سے چھوٹے ہوں اور وہ آپ سے بڑا ہو، خواہ وہ زندہ وجود ہو، خواہ وہ مردہ وجود ہو یعنی جسد ہوایسی صورت میں آپ کے دل میں اس کی عظمت کا خیال آئے گا۔پہاڑ کو خواہ وہ کتنا بلند ہو آپ بہت دور سے دیکھیں تو آپ کو اس کی عظمت کا خیال نہیں آئے گا۔جب آپ اس کے قریب پہنچ جائیں یہاں تک کہ وہ آپ پر حاوی ہو جائے ، اس کا رعب آپ پر بیٹھ جائے تو پھر آپ اسے عظیم کہیں گے، بے اختیار دل سے اس کی عظمت کا خیال اٹھے گا۔اسی طرح جس شخص کو بھی آپ یا جس ذات کو آپ عظیم کہتے ہیں اس کا کچھ نہ کچھ رعب قبول کرتے ہیں تو عظیم کہتے ہیں۔بادشاہ اپنے ماتحتوں کو عظیم نہیں کہتا، دل بڑھانے کے لئے کہہ دے تب بھی اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ تم اپنے چھوٹوں کے مقابل پر عظیم ہو لیکن اپنے مقابل پر اس کو عظیم نہیں سمجھتا اس لئے کہ عظمت میں ایک رعب کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔جب تک وہ رعب طاری نہ ہو اس وقت تک عظمت کا تصور قائم نہیں ہوتا۔پس عظمت اپنے ساتھ ایک رعب کا مضمون رکھتی ہے جو کسی چیز پر حاوی ہو جائے اور عظمت کا تصورتب بڑھتا ہے جب انسان ایسی چیز کے قریب جائے۔روس کی سلطنت بھی عظیم ہوگی لیکن آپ باہر بیٹھے ہوئے ہیں آپ کو اس سے کیا؟ وہ ایک فرضی عظمت ہے۔لیکن جس سلطنت میں آپ رہ رہے ہوں اس کی عظمت کا احساس اور رنگ رکھتا ہے۔جس سلطنت کو دور سے دیکھ رہے ہیں اس کی عظمت کا احساس اور رکھتا ہے۔پھر کسی کی عظمت براہ راست آپ پر اثر انداز بھی ہو رہی ہو وہ بالکل اور چیز ہے اور وہ جو براہ راست اثر انداز نہ