خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 987 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 987

خطبات طاہر جلدم 987 خطبه جمعه ۱۳ / دیسمبر ۱۹۸۵ء ہورہی ہو وہ بالکل اور بات ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کہ پہاڑ کے قریب جا کر اس کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔لیکن اگر زلزلہ کی کیفیت پیدا ہورہی ہو اس وقت۔اگر بادوباراں ہو بجلی کے کڑ کے ہوں اور پہاڑ ان سب ہیتوں کے ساتھ رونمائی کر رہا ہو جو پہاڑ کے لفظ کے ساتھ وابستہ ہیں، پہاڑ کے معانی کے ساتھ وابستہ ہیں تو پھر پہاڑ کی عظمت اور طرح سے جلوہ گر ہوگی۔پس جب آپ رَبِّيَ الْعَظِیم کہتے ہیں تو عظمت کے وہ سارے معانی جو بھی انسان تصور کر سکتا ہے وہ سارے خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور الف لام لفظ عظیم میں وہ ساری وسعتیں پیدا کر دیتا ہے جو عرب الف لام کے ساتھ منسوب کیا کرتے ہیں۔یعنی یہ معنی بھی ہو جائیں گے کہ اصل عظمت تو خدا ہی کی عظمت ہے۔یہ معنی بھی ہو جائیں گے کہ تمام عظمتیں جتنی بھی ہیں کامل طور پر خدا کی ذات میں پائی جاتی ہیں اور غیر اللہ میں نہیں پائی جاتیں۔اور اس کے علاوہ بھی الف لام کے جتنے معانی ہیں یہ لفظ متفرق معانی دیتا ہے، وہ سارے خدا تعالیٰ کی ذات میں اکٹھے کر دیئے جائیں تب العظیم کے معانی سمجھ آئیں گے۔اور پھر دوسرا پیغام آپ کو یہ ملتا ہے کہ العظیم۔آپ نے اس وقت کہا جب آپ نے حرکت کی کسی کے سامنے جھکے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کی حضوری کو محسوس کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی وجود آپ کے سامنے ابھرا ہے ورنہ تو خدا ہر وقت موجود ہے۔عین جھکتے وقت آپ نے کیوں سبحان ربی العظیم کہا ؟ دوبارہ توجہ کو اپنے رب کی عظمت کی طرف مرکوز کرنے کے لئے یہ احساس دلانے کے لئے کہ وہ عظیم جسے تم دور کی حالت سے دیکھا کرتے تھے ، ایک غفلت کی آنکھ سے دیکھا کرتے تھے اب محسوس کرو کہ وہ عبادت کے وقت تمہارے قریب تر آگیا ہے اور اتنا قریب آیا ہے کہ تم نے جسمانی حرکت کے ذریعہ اس کے وجود کو محسوس کیا ہے اور اس کے سامنے جھک گئے ہو۔اور ربی کے لفظ میں میرا رب کہ کر اس میں ایک اور بھی مضمون پیدا کر دیا۔یعنی ایسے شخص کے سامنے آپ نہیں جھکے جس کی دشمنی کا خوف ہو۔ایک ایسے وجود کے سامنے جھکے ہیں جس سے آپ خیر کی توقع رکھتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف ہے۔وہ آپ کی دائیں طرف ہے ، آپ کے بائیں طرف نہیں ہے یعنی آپ کا ساتھی ہے آپ کا دشمن نہیں ہے۔پس سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظیم کہہ کر جو یہ خدشات تھے کہ اتنے بڑے وجود کے سامنے جا