خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 967 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 967

خطبات طاہر جلدم 967 خطبہ جمعہ ۶ / دسمبر ۱۹۸۵ء ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور کسی کی طرف نہیں دیکھیں گے۔عبادت کا جو مضمون ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے اس میں عشق کا معنی پایا جاتا ہے۔کامل غلامی، جھک جانا ، اپنے وجود کو مٹا دینا ، اپنے آپ کو دوسرے کے سپر د کر دینا کہ میں تیرا ہو چکا ہوں اور یہ جو تیرا ہو چکا ہوں کا لفظ ہے یہ ہر انسان اپنی زندگی کی کسی نہ کسی حالت میں کسی دوسرے کے لئے استعمال کرتا ہے اور اس لفظ کو وہ کروڑ دفعہ بھی کہے تب بھی اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔اپنے محبوب کو ایک آدمی کہتا چلا جائے کہ میں تیرا ہوں ، تیرا ہوں ، تیرا ہوں، تیرا ہوں ہزار دفعہ ملے ہزار دفعہ وہ دو ہرائے تب بھی اس کا پیٹ نہیں بھرے گا اور نہ سننے والے کا پیٹ بھرے گا۔میں تیرا ہوگیا ، میں تیرے سوا کسی کا نہیں رہا خدا نے یہ ایسی لذت اس مضمون میں رکھ دی ہے کہ دنیا کا کوئی انسان یہ کہہ نہیں سکتا کہ اے خدا! مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ مضمون کیا ہے۔وہ جبی ہو یا انگریز ہو یا جاپانی ہو یا چینی ہو یا تو رانی ہو یا کسی اور وطن کا رہنے والا ، ترقی کے کسی بھی مقام پر ہو عبودیت کا مضمون انفرادی طور پر ہر انسان کو معلوم ہے، سپردگی کا مضمون ہر انسان کو معلوم ہے اور جب تک وہ اس منزل تک نہیں پہنچتا اس کو محبت کے معنی آتے ہی نہیں اور کسی نہ کسی وقت ہر انسان اس منزل سے ضرور گزرا ہوا ہوتا ہے اور اس منزل کے حصول کے لئے ہمیشہ تمنا رکھتا ہے۔تو پانچ دفعہ نماز بوریت کے لئے نہیں ہے بلکہ عشق کے مضمون کو کامل کرنے کے لئے ہے اور اگر انسان اسی مرکزی نکتہ پر غور کرے اور پھر بار بار اس کو محبت کے جذبے سے بیان کرے تو جتنی دفعہ وہ پڑھے گا اتنی ہی زیادہ اس کو لذت محسوس ہوگی۔اتنا ہی زیادہ وہ اپنے آپ کو خدا کے قریب سمجھے گا اور اتنا ہی زیادہ اس کے نفس لوامہ میں طاقت آئے گی۔جب وہ یہ کہتا ہے کہ میں تیرا ہوں اور کسی کا نہیں ہوں اور کسی اور کے در پر میں نے نہیں جانا۔تو اس کے ساری دنیا کے گناہ جھڑ جاتے ہیں یعنی تمام دنیا کے گناہوں کے محرکات ختم ہو جاتے ہیں۔اس عشق کے مضمون میں تو دیوانگی ہے جیسے مجنوں لیلیٰ کا ہو گیا تو ویرانے جہاں لیلی ہوتی تھی وہ اس کو آبادیوں سے زیادہ پیارے ہو جاتے تھے اور وہ آبادیاں جہاں لیلی نہیں ہوتی تھی وہ اس کو ویرانے نظر آتے تھے۔تیرا ہی ہو گیا کا یہ معنی ہے کہ اب تو ہے تو میری زندگی میں لذتیں ہیں، تو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے۔جہاں جہاں تو مجھے نظر آئے گا وہاں وہاں میں جاؤں گا ، جہاں جہاں تو دکھائی