خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 968
خطبات طاہر جلد۴ 968 خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء دے گا وہاں وہاں میں پیار کروں گا۔وہاں سے لذتیں تلاش کروں گا اس کے سوا نہیں کروں گا۔کسی اور کی طرف نہیں جھکوں گا کسی اور سے طلب نہیں کروں گا جو کچھ مانگوں گا تجھ سے ہی مانگوں گا۔اب اللہ کے مضمون پر آپ غور کریں تو انہی دو باتوں میں ختم ہو جاتا ہے۔لا الہ الا اللہ کا یہی معنی ہے کہ محبت اور پیار کے ہر درجہ کے لئے میں نے تجھے اپنا بنا لیا ہے اور مدد طلب کرنے کے ہر درجہ کے لئے میں نے تیری طرف رجوع کر لیا ہے اور کسی اور کی طرف میں نہیں دیکھوں گا۔اسی لئے عبادت کی جاتی ہے یا اس کے حسن کے نتیجہ میں اس کی عظمت کی وجہ سے اس کے سامنے جھک کر اپنے آپ کو اس کے سپرد کر کے یا پھر حرص و ہوا کی وجہ سے کسی چیز کی طلب کی خاطر کسی کے سامنے جھکتا ہے۔تو اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ن کا جو مضمون ہے یہ عشق کا مضمون ہے اور اگر اسے عشقیہ رنگ میں، والہانہ رنگ میں بیان کیا جائے خدا کے حضور عرض کیا جائے تو پانچ دفعہ کیا، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اگر آپ ہر سانس میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ) کہیں آپ کے عشق کو ایک نئی جلا ملے گی نئی زندگی ملے گی اور آپ کا مزہ ان لفظوں میں بڑھتا چلا جائے گا نہ کہ کم ہوگا کیونکہ یہ ایک ایسا انسانی تجربہ ہے کہ جس کے نتیجے میں دنیا کی ہر قوم کا ہر فرد یہ مجھ سکتا ہے کہ بعض الفاظ ہیں جو تکرار کے نتیجہ میں زیادہ لذت پیدا کرتے ہیں۔ایک انگریز شاعر غالباً Dryden اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتا ہے ، بڑا مشہور مصرعہ ہے۔For God's sake! shut your mouth and let me love۔اوہ ! خدا کے واسطے اب اپنی باتیں بس کرو مجھے محبت کرنے دو۔مطلب یہ ہے کہ محبت کے بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جب کہ سوائے اس کے کہ میں تیرا ہوں اور کوئی بات اچھی نہیں لگتی۔ارد گرد کی باتیں ہو رہی ہوں اور محبت ہو رہی ہو ان دونوں میں جوڑ نہیں ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وہ مقام ہے جہاں Let me love کا مقام ہے اور باقی ساری باتیں غائب ہو جاتی ہیں۔اسی طرح خدا تعالی نماز میں بار بار ایسے مقامات لاتا ہے جہاں محبت کا مضمون ایک دم ابھر آتا ہے اور کوئی انسان جس کی توجہ ہٹ رہی ہو وہ ان الفاظ پر پہنچ کر ایک دم خدا کی محبت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔چنا نچہ جب آپ رکوع میں کہتے ہیں سبحان ربی العظیم تو اس بات پر کبھی غور نہیں