خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 966
خطبات طاہر جلدم 966 خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء بھی سورہ فاتحہ ختم نہیں ہوگی اس کی زندگی ختم ہو جائے گی اور اس کی وجہ سے کبھی بوریت نہیں ہو سکتی۔جولوگ خالی نمازیں پڑھتے ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک چیز بار بار کہہ رہے ہیں ، بار بار اسی طرح کہتے چلے جار ہے ہیں۔اس سے انسان بور ہو جاتا ہے۔دل اکتا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ٹھیک ہے پہلے بھی ہم پڑھ چکے ہیں ٹھیک ہے پڑھ کر اس میں سے گزر جاؤ۔یعنی کوئی حد ہونی چاہئے پانچ دفعہ نہیں بلکہ تہجد کے وقت بھی اٹھو اور پھر وہی کلمے دھراتے چلے جاؤ ، ہر رکعت میں وہی باتیں کہتے چلے جاؤ کوئی حد تو اس کی ہو جو لوگ اس طرح نماز دیکھتے ہیں ان کی نمازیں خالی ہو جاتی ہیں لیکن جو معانی اور مطالب پر غور کرنے لگ جاتے ہیں اور ڈوبنے لگ جاتے ہیں ان کی نمازوں میں ایک جذب پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن عارفانہ جذب ایک اور چیز ہے۔محبت کے لئے کچھ اور بھی چاہئے اور اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ انسان تدبر اور فکر کرے۔بعض دفعہ تو محبت تدبر اور فکر کو وہاں سے ہٹاتی ہے اور علیحدگی چاہتی ہے۔یعنی فکر اور تدبر اور باتیں بھی محبت کی راہ میں حائل ہونے لگتی ہیں۔وہی مضمون ہے جوانسانی فطرت کا مضمون ہے۔جب نماز پر وارد ہو تو پھر آپ کو ایسے راستے دکھائے گا کہ جس کے نتیجہ میں آپ کی نماز میں لذت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔مطالب والا مضمون اپنی جگہ ہے ایک عارف باللہ کی نماز میں عرفان کے نقطہ نگاہ سے غوطہ خوری کے واقعات آتے چلے جاتے ہیں اور بعض دفعہ وہ ایک ہی لفظ میں ڈوب کر کئی دوسرے جہانوں میں پہنچ جاتا ہے لیکن یہ چیز ہر ایک شخص کو حاصل نہیں ہوسکتی اور ایک مشکل مقام ہے اس کے لئے بہت لمبی محنت درکار ہے اور بہت گہرا غور اور تدبر درکار ہے لیکن محبت کا مضمون نسبتا سادہ ہے، نسبتاً آسان ہے اور اس میں ایک خاص بات یہ ہے کہ تکرار کے باوجود اس میں بدمزگی پیدا نہیں ہوتی بلکہ تکرار سے مزہ بڑھنا شروع ہوتا ہے۔مثلاً جب آپ سورہ فاتحہ پر غور کریں تو اس کے جو مرکزی دو کلمات ہیں وہ عشق کے مضمون کو ظاہر کرنے والے ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کے عارفانہ حصے سے گزرنے کے بعد جب انسان اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُن پر پہنچتا ہے تو یہ ایک بے اختیار عشق کا اظہار ہے اور کلمہ توحید کی تفسیر ہے۔لا الہ الا اللہ کی اس سے اچھی تفسیر ممکن نہیں جو ان دو لفظوں میں بیان کر دی گئی ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ہم تیری