خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 965
خطبات طاہر جلدم 965 خطبہ جمعہ ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء معیار کو بھی پہنچے گی اگر نماز سے پہلے نماز کی اس رنگ میں تیاری کی جائے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کی تمنا پیدا ہو جائے ، اس کی لقاء کا شوق پیدا ہو جائے اور ہر اچھی چیز سے وہ نظر آنے لگ جائے۔شروع میں جب یہ آئینہ کثیف ہو گا جب دھندلا ہوگا تو دھندلی سی جھلک نظر آئے گی لیکن آئے گی ضرور۔ہر لذت، ہر غم ، ہر خوف خدا کی طرف انگلی اٹھانے لگ جاتا ہے۔اگر انسان اپنے اللہ کے وجود کو اپنے اوپر طاری کر لے ، اگر یہ ارادہ کرلے کہ میں نے غفلت کی حالت میں زندگی نہیں گزارنی بلکہ شعور کے ساتھ زندگی گزارنی ہے، بیداری کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو اس کو اپنے ہر طرف خدا ہی خدا نظر آئے گا کوئی چیز ایسی باقی نہیں رہے گی جہاں وہ خدا کو نہ دیکھے۔اس کی زندگی حیرت انگیز طور پر ایک نئے زمین و آسمان میں داخل ہو جائے گی۔اسی زمین و آسمان سے وہ نئی زمین و آسمان پیدا ہوں گے۔چشم مست ہر حسیں ہردم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا (در تمین صفحه: ۱۰) جہاں آپ لذتیں پائیں گے وہاں بھی خدا نظر آئے گا، جہاں لذتوں سے بچیں گے وہاں بھی خدا کو دیکھ کر بچیں گے ، جہاں آپ خوف سے ہراساں ہوں گے وہاں بھی خدا نظر آئے گا اور جہاں خوف کو دور کرنے کے لئے اپنے رب کو یاد کریں گے وہاں بھی خدا ہی کی طرف متوجہ ہوں گے۔پس جب ساری زندگی پر خدا طاری ہونے لگ جائے پھر انسان یہ سوچ کر نماز کی طرف قدم بڑھائے کہ وہاں تو میں دنیا میں بھی الجھا ہوا تھا اور خدا سے بھی مل رہا تھا اب میں خالصہ اس کے لئے تنبل اختیار کر رہا ہوں ، اب اس کی طرف بڑھ رہا ہوں تو پھر اس نماز کی ہر حرکت میں انسان کے دل کے اندر ایک حرکت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔وہ جو ایک عام سا سفر ہے وہ ایک رومانیت اختیار کر جائے گا۔اس میں رفتہ رفتہ پیار اور محبت کے معنی داخل ہونے شروع ہو جائیں گے۔پھر جب انسان نماز کے اندر معنوں کے ساتھ غور کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو وہ بعض خاص مقامات پر دو طرح سے انسان غور کر سکتا ہے۔ایک تو ہے ان لفظوں کا عرفان حاصل کرنا مثلاً سورۃ فاتحہ میں ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ (الفاتحہ :۲)۔جہاں تک اس کے عرفان کا تعلق ہے یہ اتنا وسیع مضمون ہے کہ ساری زندگی انسان سورۂ فاتحہ کے مطالب پر غور کرتا چلا جائے تب