خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 964
خطبات طاہر جلدم 964 خطبہ جمعہ ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء سوال یہ ہے کہ ایک عام مقتدی کو کیا کرنا چاہئیے ؟ کوئی ایسا طریق معلوم ہونا چاہئے کہ جس کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ انسان اس اعلیٰ مقصد کی طرف نہ صرف بڑھنے لگے بلکہ محسوس کرنے لگے کہ میں بڑھ رہا ہوں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس کا خلاصہ اللہ کی محبت ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے نماز کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اگر آپ نماز پڑھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ نماز میں ہی محبت آجائے گی یہ درست نہیں ہے۔نماز کی طرف جانے سے پہلے محبت کے آثار آپ کے اندر پیدا ہونے چاہئیں تا کہ جانے کا بھی لطف آئے خدا کے لئے پاک ہونے کا بھی لطف آئے اور پھر جب آپ نماز میں داخل ہوں تو ذہن اس کے لئے تیار ہو۔اگر یہ نہ ہو تو لذت آہی نہیں سکتی۔اس لئے روز مرہ کی زندگی میں نماز کو اپنے اوپر اس طرح وارد کریں کہ نماز کی تیاری کے لئے خدا تعالیٰ کی محبت میں بار بارغوطے کھانا سیکھیں اور یہ چیز ایسی ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں ہر حالت میں انسان کو نصیب ہوسکتی ہے۔ایک بھی لمحہ انسانی زندگی کا ایسا نہیں جو خدا کے فضلوں کا مظہر نہ ہو، ایک بھی دنیاوی لذت ایسی نہیں ہے جس کا رخ آپ خدا کی طرف نہیں پھیر سکتے۔کھانا کھاتے ہیں آپ کو لذت آتی ہے۔ایک عارف باللہ ہو اس کو بھی لذت آئے گی اور ایک دنیا کا کیڑا ہو اس کو بھی لذت آئے گی لیکن عارف باللہ اپنی ہر لذت کو دو لذتوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔جبکہ دنیا کے کیڑے کے لئے ایک ہی لذت رہ جاتی ہے۔وہ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً پر راضی ہو کر بیٹھا رہتا ہے اور وفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرہ:۲۰۲) کی طرف اس کا دماغ جاتا ہی نہیں۔عارف باللہ کے لئے دنیا کی حسنہ سے آخرت کی حسنہ پیدا ہوا کرتی ہے۔دو جنتوں کا یہی مضمون ہے کہ دنیا کی جنت کو وہ روحانی جنت میں تبدیل کرتے رہتے ہیں اور دنیا کے میووں کو وہ روحانی میووں میں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔یہ کام آسان بھی ہے اور لذت بخش بھی ہے۔بار بار اپنے ذہن کو خدا کی طرف منتقل کرنا۔چنانچہ قرآن کریم نماز کی تاکید فرماتا ہے تو ایک موقع پر فرماتا ہے:۔أَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ (بنی اسرائیل: ۷۹) اس طرح چوبیس گھنٹوں کو باندھ دیا ہے۔یعنی شروع کر کے آخر وقت تک گویا نماز ہی کی حالت بیان فرمائی ہے۔نماز پڑھو وہاں سے شروع کر کے وہاں تک گویا بیچ میں کوئی ناغہ نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہر حالت جس میں سے انسان گزر رہا ہوتا ہے اس کو عبادت میں تبدیل کر سکتا ہے اور نماز اپنے