خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 954
خطبات طاہر جلدم 954 خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء کی محبت کی طلب کرتا ہے۔کبھی اس محبت میں انتہا کر دینی اور کبھی اتنا پیچھے ہٹ جانا کہ گویا واسطہ ہی کوئی نہیں تھا، واقفیت ہی کوئی نہیں تھی، یہ رمزیں تو عاشقی کی رمزیں نہیں ہیں۔پس جہاں مومن کو سمجھانے کی ضرورت ہے وہاں اس مومن کو جو تربیت کا کام کرتا ہے خود یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے وقت استقلال اور صبر سے کام لینا چاہئے اور وقتی نیکیاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔نیکیوں کی ذات میں دوام کا معنی پایا جاتا ہے۔قرآن کریم الصالحات کے ساتھ الباقیات کا ذکر فرماتا ہے۔الصلحات الباقيات وَالْبقِيتُ الصلحت (مریم: ۷۷) یعنی جس طرح مرضی اس کو بیان کریں دونوں کے درمیان ایک بندھن ہے کہ باقی رہنے والی چیز ہی اصل میں صالح ہے۔صالح چیز ہی وہ ہے جو باقی رہا کرتی ہے باقی چیزیں مٹ جایا کرتی ہیں۔تو نیکیاں بھی اگر ان میں بقا پیدا نہ ہو، ان میں اگر دوام نہ آئے تو وہ کوئی مستقل نتیجہ پیدا نہیں کیا کرتیں۔اس لئے جب ہم سوسائٹی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے نزدیک وہی نیکیاں نیکیاں ہیں جو قومی قوت کا موجب ہیں جن میں دوام آ گیا ہے، جو ہمیشہ کے لئے اپنی ذات میں قائم ہوگئی ہیں اور نماز کے ساتھ قیام کا لفظ اسی لئے بار بار بولا گیا اور بار بار استعمال ہوا کہ نماز ہے ہی وہی جو قائم ہو چکی ہو۔جو نماز قائم نہ ہوئی ہو، آئی اور گزرگئی ، کھڑی ہوئی اور پھر گر گئی، قرآن کریم کی اصطلاح میں اس کو نماز نہیں کہا جاتا۔پس یہ خوشی کی بات تو ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بکثرت جماعت کی توجہ نمازوں کی طرف مبذول ہوئی ہے۔جو پہلے کم پڑھتے تھے وہ زیادہ پڑھنے لگے، جو نہیں پڑھتے تھے وہ پڑھنے لگ گئے، کوئی شک نہیں خوش کن خبر ہے لیکن اس کے پس منظر میں کچھ تکلیف دہ چیزیں بھی نظر آ رہی ہیں۔جو پڑھتے تھے انہوں نے چھوڑی کیوں تھیں، جو زیادہ پڑھتے تھے انہوں نے کم کیوں شروع کر دیں اور اگر ایک دفعہ ایسا ہوا ہے تو کل کیوں نہیں ہوگا؟ اس کی فکر کرنی چاہئے۔یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے اور مذکر کو خود یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک میں مستقلاً خود نصیحت پر دوام اختیار نہیں کروں گا اس قسم کے دردناک واقعات ہوتے ہی رہیں گے اور میرا کام نہ صرف یہ کہ پیغام پہنچانا ہے بلکہ اس پیغام کو زندہ رکھنا اور مسلسل یاد دلاتے چلے جانا ہے۔چنانچہ قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے فَذَكِّرُ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّر (الغاشیہ: ۲۲) نصیحت کر