خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 955 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 955

خطبات طاہر جلدم 955 خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء اور نصیحت کرتا چلا جا۔اِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّر تو ہے ہی نصیحت کرنے والا۔تیری دائی صفت ہے که تو نصیحت کرتا ہے اور نصیحت کرتا چلا جاتا ہے۔پس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام هُذَكِّر ہونا بتاتا ہے کہ نصیحت وہی ہے جو دوام پکڑ جاتی ہے۔نہ صرف یہ کہ نیکیوں کو دوام ہونا چاہئے بلکہ جو نیکیاں قائم کرنے والے لوگ ہیں وہ اپنی نصیحت کو بھی دوام بخشتے ہیں۔وہ تھکتے نہیں اور بار بار کہتے چلے جاتے ہیں اور کہتے چلے جاتے ہیں۔پس تنظیموں کو میں توجہ دلاتا ہوں اور انفرادی طور پر ان دوستوں کو بھی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے خود نمازوں پر قائم ہو چکے ہیں اور دائم ہو چکے ہیں اور محافظ ہو چکے ہیں کہ وہ دوسروں کی نمازوں کو بھی قائم کریں ، ان کو حفاظت کے معیار تک پہنچائیں اور دوام بخشیں اور جب تک یہ نہیں ہوتا وہ نہ تھکیں، نہ ماندہ ہوں، ہرگز پیچھے نہ ہیں۔مستقل محنت کے ساتھ کام کریں یہاں تک کہ جب نماز میں خود اپنی ذات میں قائم ہو جائیں گی ، جب قرآنی اصطلاح کے مطابق انہیں دوام آجائے گا، ان کی حفاظت ہو جائے گی پھر وہ آزاد ہیں پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔دوسرا پہلو اس بات کا یہ ہے کہ جب بھو کے آدمی کے کان میں یہ آواز پڑتی ہے کہ برتن لگ گئے ہیں تو خوشی تو ہوتی ہے لیکن اس سے بہتر آواز یہ ہے کہ کھانا لگ گیا ہے۔برتن لگنا بھی اچھی بات ہے کیونکہ اس سے کھانے کے قرب کی خوشبو آنے لگتی ہے لیکن جب کھانا لگ جائے تو ایک بھوکے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی آواز نہیں۔جب یہ اطلاع ملتی ہے کہ نمازیوں سے مسجد میں بھر گئی ہے تو یہ اطلاع ایسی ہی ہے جیسے کہا جائے کہ برتن لگ گئے ہیں۔جب تک نمازیں خدا کے پیار سے اور اس کی محبت سے اور اس کے عرفان سے اور اس کی حمد اور اس کی ثناء سے بھر نہیں جاتیں اس وقت تک یہ آواز وہ آواز بہر حال نہیں ہے کہ کھانا لگ گیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے اکثر نمازی بدقسمتی سے اپنی اکثر نمازوں کے لحاظ سے خالی برتن لئے پھرتے ہیں اور بعض نمازی جو با قاعدہ نماز پڑھنے والے ہیں اور ایک بھی نماز کا ناغہ نہیں کرتے بدقسمتی سے ان کی اکثر نمازیں بھی خالی برتنوں کی طرح ہوتی ہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔ان وجو ہات کو سمجھنا چاہئے اور ان کی طرف توجہ دینی چاہئے اور نماز کی حفاظت کا یہ بھی حصہ ہے۔حقیقت